اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) ملکی تاریخ کے سب سے بڑے تعلیمی وظائف کے پروگرام احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ کا آغاز کر دیا گیا، پراجیکٹ کے تحت 50 ہزار طلباءو طالبات کو تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے جس پر 5 ارب روپے لاگت آئے گی، پروگرام کے تحت 50 فیصد وظائف طالبات کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تقریب جمعرات کو …
ملکی تاریخ کے تعلیمی وظائف کے سب سے بڑے پروگرام ”احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ“ کا آغاز کر دیا گیا، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 دسمبر (اے پی پی) ملکی تاریخ کے سب سے بڑے تعلیمی وظائف کے پروگرام احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ کا آغاز کر دیا گیا، پراجیکٹ کے تحت 50 ہزار طلباءو طالبات کو تعلیمی وظائف دیئے جائیں گے جس پر 5 ارب روپے لاگت آئے گی، پروگرام کے تحت 50 فیصد وظائف طالبات کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تقریب جمعرات کو یہاں ہائر ایجوکیشن کمیشن میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری اور چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام ہے۔ 50 ہزار سکالر شپس کے لئے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ضرورت مند طلباءکی حتمی تعداد کے تعین کے بعد اضافی سکالر شپس کا معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام حکومت اور وزیراعظم کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت تعلیم، صحت، کاروبار، سماجی تحفظ اور دیگر شعبوں میں 134 ذیلی منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے حوالے سے آگاہی مہم کو تیز کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں کے لئے بااعتماد شراکت داروں کا تعاون حاصل کیا گیا ہے تاکہ ان کے موثر نتائج حاصل ہو سکیں۔ ہم محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا نظام بھی وضع کر رہے ہیں۔ ضرورت پر مبنی سکالر شپس کی فراہمی سے غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ اس موقع پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ صدر مملکت نے تیسری مرتبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پروگراموں میں شرکت کی ہے جو ان کی تعلیم سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس لحاظ سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے کہ اب تک مجموعی طور پر اتنے تعلیمی وظائف نہیں دیئے گئے جتنے احساس سکالر شپس پراجیکٹ کے تحت ایک سال میں دیئے جائیں گے۔ یہ ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈر گریجویٹ تعلیم کی بڑی افادیت ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے لیکن ذہین اور ہونہار طلباءمالی وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے تھے۔ اب اس پروگرام کے تحت ان کی یہ مشکل حل ہو جائے گی۔ موجودہ حکومت کا یہ ایک بڑا انقلابی قدم ہے تاہم ملک میں کالج کی تعلیم تک رسائی نہ رکھنے والے طلباءو طالبات کی تعداد کے پیش نظر اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکالر شپ پروگرام پر عمل درآمد کے سلسلے میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ قبل ازیں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے سکالر شپ پروگرام کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اب ہونہار اور مستحق طلباءو طالبات احساس سکالر شپ پراجیکٹ کے تحت تعلیم حاصل کر کے اپنے خاندانوں کا سہارا بننے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی بہتر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ احساس انڈر گریجویٹ سکالر شپ پراجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ 5 ارب روپے ہے اور اس کی مدت 5 سال ہوگی۔ 50 ہزار وظائف کے لئے ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں انڈر گریجویٹ پروگرام کے لئے سکالر شپس دستیاب نہیں تھے، یہ پراجیکٹ ملک کے تعلیم کے شعبہ کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔







