پنڈدادنخان۔ 26 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سال 2019ءمیں ملکی معیشت کو مستحکم کیا، 2020ءترقی اور خوشحالی کا سال ہو گا، وزیراعظم بننے کے بعد پہلے دن قوم سے کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، تبدیلی آسان نہیں، تبدیلی اور اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ مافیاز ہیں جن کا مفاد پرانے اور کرپٹ نظام سے وابستہ ہے اور …
وزیراعظم عمران خان کا جلال پور اریگیشن کینال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
پنڈدادنخان۔ 26 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سال 2019ءمیں ملکی معیشت کو مستحکم کیا، 2020ءترقی اور خوشحالی کا سال ہو گا، وزیراعظم بننے کے بعد پہلے دن قوم سے کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، تبدیلی آسان نہیں، تبدیلی اور اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ مافیاز ہیں جن کا مفاد پرانے اور کرپٹ نظام سے وابستہ ہے اور یہی زیادہ شور مچاتے ہیں، ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، ہم ملک کو اوپر جاتا دیکھنا چاہتے ہیں، ہم نے مل کر کرپٹ مافیاز کو شکست دینی ہے۔ مودی کے مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اندر سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، عالمی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت کی جانب سے ممکنہ واردات سے پہلے ہی دنیا کو آگاہ کر دیا تھا، پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 117 کلومیٹر طویل جلال پور اریگیشن کینال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں سے میانوالی تک سارا علاقہ میرا ہے، میں یہاں کے لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے واقف ہوں، اس علاقے میں پینے کے پانی کا ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے، نہر کی تعمیر سے پنڈدادنخان، جہلم اور خوشاب کی تقدیر بدل جائے گی، اس انتہائی اہم منصوبے پر یہاں کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو یہ منصوبہ شروع کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 120 سال پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا، اب اس منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہاں پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہو گا بلکہ اس سے پونے دو لاکھ ایکڑ زمین بھی سیراب ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ کے لئے دعاگو ہیں، مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی تسلط اور غاضبانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر ردعمل کے باعث دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے مودی حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی واردات کئے جانے کی توقع تھی اور اس سے میں نے پہلے ہی دنیا کو آگاہ کر دیا تھا، پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے گجرات میں جس طرح مسلمانوں پر ظلم کیا تھا آج ویسا ظلم کشمیر میں جاری ہے، جہاں تقریباً پانچ ماہ سے 80 لاکھ کشمیریوں کو قید رکھا گیا ہے، نوجوانوں پر سنگین تشدد کیا جا رہا ہے، ہزاروں لوگ جیلوں میں بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ کشمیری قیادت کو قید رکھا گیا ہے، اب بھارت میں مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے جس سے ہندوستان کے سب لوگ مودی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے خلاف کیا تھا، 1982ءمیں میانمار میں بھی اسی طرح کا قانون لایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں پر ظلم کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مودی اپنے تکبر میں فرعون بنا ہوا تھا، اس کے مظالم کے خلاف خود ہندوستان کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہی ان مظالم کا خاتمہ کریں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی، گزشتہ دس سالوں میں دو حکومتوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا، اس دوران ملکی قرضوں میں چار گنا اضافہ ہوا، ہم نے پہلے سال جتنا ٹیکس جمع کیا، اس کا نصف پچھلی حکومتوں کے لئے گئے قرضوں پر سود کی مد میں چلا گیا۔ برآمدات کم اور درآمدات بہت زیادہ تھیں جبکہ ڈالر باہر بھیجے جا رہے تھے جس کی وجہ سے پاکستانی روپیہ کمزور ہوا اور اس کی مالیت میں 30 فیصد کمی آئی اور درآمدات 30 فیصد مہنگی ہو گئیں اس طرح ملک میں مہنگائی بھی بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشکل دور گزشتہ دس سال میں روا رکھے جانے والے ظلم کا نتیجہ تھا لیکن اب حالات بہتر ہو رہے ہیں، پاکستانی روپیہ مضبوط ہو رہا ہے، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ باہر سے سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2019ءمیں ملکی معیشت کو مستحکم کیا، اب 2020ءترقی اور خوشحالی کا سال ہو گا، آنے والا سال نوکریاں دینے کا سال ہے، وزیراعظم بننے کے بعد پہلے دن قوم سے کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، مشکل وقت سے گزریں گے کیونکہ تبدیلی آسان نہیں ہوتی، اس کے لئے مشکلات اور اصلاحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی اور اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ مافیاز ہوتے ہیں جن کا مفاد پرانے اور کرپٹ نظام سے وابستہ ہوتا ہے اور یہ مافیاز سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں، انہیں ملک کی فکر نہیں بلکہ اپنے پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اخبارات میں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جو فرسودہ نظام سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے، اب انہیں کرپٹ نظام کے ختم ہونے سے خوف ہے کہ ان کا پیسہ بند ہو جائے گا اس لئے وہ منفی خبر پھیلاتے ہیں، اب کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے لئے مزید برا وقت آنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ کرپشن پر قابو نہیں پا لیتا، کرپشن کی وجہ سے عوام کا پیسہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے جس سے ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ چین نے ساڑھے چار سو وزراءکو کرپشن پر جیلوں میں ڈالا ہے جبکہ امریکہ میں 30، 30 سال بعد بھی کرپٹ لوگ پکڑ لئے جاتے ہیں، اس میں واضح پیغام ہے کہ کرپشن کو ختم کئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، ہم ملک کو اوپر جاتا دیکھنا چاہتے ہیں، سب پاکستانیوں نے میرے ساتھ کھڑے ہونا ہے اور ہم نے مل کر کرپٹ مافیاز کو شکست دینی ہے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے خطاب میں کہا کہ جلال پور کینال کا منصوبہ ضلع جہلم اور پنڈدادنخان کے علاقوں کو سیراب کرے گا، 117 کلومیٹر طویل نہر کی تعمیر سے علاقے کو جدید نہری نظام میسر آئے گا جس سے یہاں پینے کے پانی اور آبپاشی کے مسائل حل ہوں گے۔ جلال پور اریگیشن کینال پر 32 ارب 72 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت 30 رابطہ نہروں اور 16 برساتی نالوں کی تعمیر کی جائے گی۔ اس سے ایک لاکھ 70 ہزار ایکڑ بارانی رقبے کو نہری پانی کے ذریعے سیراب کیا جا سکے گا جبکہ ضلع جہلم اور خوشاب کے 80 سے زائد دیہاتوں میں تقریباً چار لاکھ کاشتکار اس سے مستفید ہوں گے۔







