اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت اداروں میں اصلاحات اور شفافیت کے عمل کو کو یقینی بناتے ہوئے غیر جانبدار طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالے گئے 8 لاکھ 20 ہزار 165 غیر مستحق افراد میں سے سب سے زیادہ …
معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا ٹویٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت اداروں میں اصلاحات اور شفافیت کے عمل کو کو یقینی بناتے ہوئے غیر جانبدار طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالے گئے 8 لاکھ 20 ہزار 165 غیر مستحق افراد میں سے سب سے زیادہ تعداد خیبرپختونخوا اور پنجاب کی ہے، غیر مستحق افراد کی جگہ غریب اور مستحق ترین افراد کو بی آئی ایس پی کا حصہ بنایا جائے گا، غیر مستحق افراد کو نکالنے سے 16 ارب روپے کی بچت ہوگی جبکہ بینکوں کی آپریشنل لاگت کی مد میں بھی 2 ارب روپے کی بچت کی جا چکی ہے۔ جمعہ کو اپنے ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بی آئی ایس پی سے نکالے گئے 8 لاکھ سے زائد غیر مستحق افراد کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 2 لاکھ 77 ہزار 266 (33.81 فیصد)، پنجاب میں 2 لاکھ 43 ہزار 380 (29.67 فیصد)، بلوچستان میں 45 ہزار 280 (5.52 فیصد)، سندھ میں 1 لاکھ 83 ہزار 42 (22.32 فیصد)، آزاد کشمیر میں 17 ہزار 361 (2.12 فیصد)، گلگت بلتستان میں 8 ہزار 297 (1.1 فیصد)، اسلام آباد میں 2 ہزار 94 (0.26 فیصد)، سابقہ فاٹا میں 43 ہزار 445 (5.30 فیصد) ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے تعاون سے اعداد و شمار کے بغور تجزیئے کے بعد پوری ذمہ داری کے ساتھ ایسے غیر مستحق افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو بی آئی ایس پی سے بے جا طور پر استفادہ کر رہے تھے ان میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے اس پروگرام سے استفادہ کیا، ان کا ڈیٹا متعلقہ محکموں کو بھیج کر ان کے خلاف کارروائی کا عمل شروع کیا جائے گا جبکہ بی آئی ایس پی میں اس عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا اور اداروں میں شفافیت کو قائم کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحق افراد کی جگہ غریب اور نادار افراد کو بی آئی ایس پی کا حصہ بنایا جائے گا اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات تک اس نیٹ کو بڑھانے کے لئے موثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ غیر مستحق افراد کو نکالنے سے 16 ارب روپے کی بچت ہوگی جبکہ کفایت شعاری پروگرام کے تحت بینکوں کی آپریشنل لاگت کی مد میں پہلے ہی 2 ارب روپے کی بچت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام نظام کو ڈیجیٹل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے افراد کو تمام ادائیگیاں بائیو میٹرک طریقے سے کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے حبیب بینک اور الفلاح بینک کے ساتھ معاہدے بھی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر کرپشن کا خاتمہ کریں گے، خواتین کے بینک اکاﺅنٹ کھولے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے مکینوں کی سہولت کے لئے قومی شناختی کارڈ کی حامل تمام خواتین کو بی آئی ایس پی میں رجسٹر کیا جائے گا اور ان کے لئے غربت کی لکیر کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مستفید ہونے والے افراد کے لئے وظیفے کی حد 5 ہزار 500 کر دی گئی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر 216 ایسے دیہات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کو یہ سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ چیزوں میں سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008ءسے جاری ہے اور ماضی میں کرپشن کی وجہ سے اس کے تین منصوبوں کو بند کیا گیا۔








