پشاور۔ 28 دسمبر (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے اصلاحاتی نظام میں رکاوٹ بننے والے سٹیٹس کو کی مزاحمت کے خاتمے کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا ،2019ءمشکل سال تھا، اگلا سال معاشی استحکام اور ترقی کے لحاظ سے بہتر ہوگا ، سرکاری ہسپتالوں میں بیرون ممالک کی طرز پر جدید نظام …
وزیر اعظم عمران خان کا امراض قلب کی تنظیم ( اپنا ) اور خیبر میڈیکل کالج کی سالانہ ونٹر میٹنگ سے خطاب

مزید خبریں
پشاور۔ 28 دسمبر (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے اصلاحاتی نظام میں رکاوٹ بننے والے سٹیٹس کو کی مزاحمت کے خاتمے کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا ،2019ءمشکل سال تھا، اگلا سال معاشی استحکام اور ترقی کے لحاظ سے بہتر ہوگا ، سرکاری ہسپتالوں میں بیرون ممالک کی طرز پر جدید نظام متعارف کرائیں گے اور” اپنا “کے تجربات سے استفادہ کریں گے ، پاکستان میں کینسر ہسپتال کے قیام میں ” اپنا“ کا کردار اہم رہا ،شمالی امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اور فزیشنز کے ذریعے لابنگ کو مضبوط کریں گے ، پاکستانی تارکین وطن بھارت کی فسطائی ذہنیت کی حامل بی جے پی حکومت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی میں اقلیتوں کی شہریت کے حوالے سے متنازعہ قانون سازی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں کردار ادا کریں ۔ان خیالات اظہار وزیر اعظم عمران خان نے گورنر ہاوس پشاور میں شمالی امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں، ماہرین امراض قلب کی تنظیم ( اپنا ) اور خیبر میڈیکل کالج کی ایلومینائی ایسوسی ایشن کی 42ویں سالانہ ونٹر میٹنگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تارکین وطن پاکستانیوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، انہیں وطن میں سرمایہ کاری یا پلاٹ وغیرہ کی خریداری میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہرشعبہ میںپاکستانی کمیونٹی نے اپنا نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں کینسر ہسپتال بنانے کا ارادہ کیا تو ہر کسی نے مخالفت کی کہ پاکستان میں ایسا ہسپتال بنانا ممکن نہیں لیکن اس وقت بھی شمالی امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور ماہرین کی ایسوسی ایشن نے بھرپور معاونت کی ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے قیام میں کامیابی کے بعد پشاور میں کینسر ہسپتال قائم کیاہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کینسر ہسپتال کیلئے لوگوں نے عطیات اس لیے دیئے کیونکہ اس کا ایک معیار مقرر کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔ بیرون ممالک کے ہسپتال کی طرز کے اصلاحات متعارف کروائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک کرپٹ اور سٹیٹس کو مافیا جو پرانے نظام سے مستفید ہوتا رہا ہے وہ اصلاحات کی راہ میں ہر جگہ رکاوٹبنا تاکہ اس عمل کو ثبوتاژ کر سکے اور کہا جاتا رہا کہ ہم اصلاحات نہیں بلکہ نجکاری کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نےیقین دلایاکہ اصلاحات ضرور لائیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں معیاری علاج ممکن نہیں، وہاں کے ڈاکٹر ز نہیں جانتے کے جدید ہسپتال کا نظام کیسا ہوتا ہے اس لیے خیبر پختونخوا سے اس اصلاحاتی عمل کا آغاز کیا تاکہ سرکاری ہسپتال میں نجی ہسپتال جیسا نظام متعارف کرا جا سکے ۔ ہم اس کوشش کو جاری رکھیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی آٹو میشن یا معاشی اصلاحات سٹیٹس کو ہر معاملے میں آڑے آیا لیکن ہم نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے قوم سے پہلے دن کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے، انشاءاللہ ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک وہ حکومت ہوتی ہے پانچ سال پورے کرنے آتی ہے اور ایک ہماری حکومت ہے جو ریفارمز گورنمنٹ ہے ، ہم نے ہر حال میں اصلاحات لیکر آنی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 1980ءکی دہائی میں برصغیر میں پاکستان سب سے آگے تھا لیکن آج سب ہم سے آگے نکل گئے ہیں، بنگلہ دیش بھی ہم سے آگے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا ہمارے سامنے کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا، مہاتیر محمد نے اصلاحات کیں جس سے ملائیشیاءنے ترقی کی ، ترکی میں رجب طیب اردگان نے اصلاحات متعارف کروائیں، آج ترکی بھی ترقی کر رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ”اپنا “کے ساتھ ادارہ جاتی انتظام چاہتے ہیں تاکہ ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کیا جا سکے ۔ امریکہ میں اپنا کے تعاون سے لابنگ کو بھی مضبوط کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ بھارت لابنگ کی وجہ سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت کر رہا ہے وہ تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ،21ویں صدی میں بھی ہم بھارت جیسی فسطائی حکومت کو دیکھ رہے ہیں جہاں بی جے پی کی قیادت میں آر ایس ایس کا نظریہ حاوی ہے ، کشمیر میں 80لاکھ آبادی کو کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیاہے ، اس کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کر دیا گیا ہے ، بھارت میں شہری ترمیمی بل نافذ کر کے اقلیتوں کو شہریت سے محروم کردیا گیا ہے اور پڑھے لکھے سمجھدار ہندو بھی بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں ، بھارت کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں لابنگ کے ذریعے بھارت کے اس فاشسٹ نظریہ کو بے نقاب کر نے کی ضرورت ہے، بھارت کے خلاف پہلی بار انسانی حقوق کی تنظیموں نے رد عمل ظاہر کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے بھارت اس کی آڑ میں کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے اس لیے لابنگ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، پہلے سال میں ورلڈ بینک نے آسانیاں پیدا کرنے والے 10ممالک کی فہرست پاکستان کو شامل کیا ہے، ہم اس میں مزید بہتری لا رہے ہیں ۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، پاکستان میں قیمتی سونے اور تانبے کے ذخائر ہیں جس کا پاکستانیوں کو اندازہ نہیں۔ تھرکول سے اتنی سستی بجلی پیدا ہوسکتی کے ہمیں تیل کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کرنے کا سوچنا بھی نہ پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زمین زرخیز ہے ، ہماری جیسی زرخیز زمین سے کم پانی پر چین جیسے ممالک ہم سے زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں لیکن ہماری کوتاہی رہی ہے کہ ہم نے ماضی میں ان وسائل پر توجہ نہیں دی ، انہوں نے کہاکہ ہم زراعت کے شعبے میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں ، چین سی پیک ذریعے زراعت ، پیداوار ، فنی تربیت ، اعلیٰ تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ہماری معاونت کر رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2019ءمشکل سال تھا۔ تجارتی ،کارباری اور بجٹ خسارے کا سامنا تھا جس میں بہتری آ رہی ہے ، ہمارا روپیہ مستحکم ہو کر بڑھنے لگا ہے، انشاءاللہ خوشحالی کی جانب بڑھنے کا آغاز ہوگیا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ سال ملک معاشی لحاظ سے مزید ترقی کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تارکین وطن پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ دیار غیر میں وطن کی محبت اور اہمیت سے آشنا ہیں ، انہوں نے کہا کہ بڑے پاکستانیوں کو جانتا ہوں جو کہتے تھے کہ تھوڑے عرصے کیلئے بیرون ملک آیا ہوں ، یہاں سے پیسہ کما کر واپس جاﺅں گا لیکن بعد ازاں ان کے بچے بڑے ہوگئے اور وہ وہیں کے ہو کے رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ میں تارکین وطن پاکستانیوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنی پر آسائش زندگی سے نکل کر وطن واپس آئیں اور یہاں محنت کریں آپکو محنت کا صلہ ضرور ملے گا۔








