اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی)صدر مملکت عارف علوی کے دستخط کے بعد ہفتہ کو وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کو قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی بذریعہ سرکولیشن منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی آرڈیننس پر دستخط …
صدر مملکت عارف علوی کے دستخط کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 دسمبر (اے پی پی)صدر مملکت عارف علوی کے دستخط کے بعد ہفتہ کو وزارت قانون نے نیب ترمیمی آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کو قومی احتساب دوسرا ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی بذریعہ سرکولیشن منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی آرڈیننس پر دستخط کردیے ہیں۔نیب ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت کے دستخط کے بعد نافذ العمل ہوگیا۔ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا جب کہ ترمیمی آرڈیننس سے ٹیکس اور سٹاک ایکسچینج سے متعلق معاملات میں بھی نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوجائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق نیب حکومتی منصوبوں اور سکیموں میں بے ضابطگی پر پبلک آفس ہولڈر کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گا، تاہم کسی پبلک آفس ہولڈر نے بے ضابطگی کے نتیجے میں مالی فائدہ اٹھایا تو نیب کارروائی کر سکتا ہے۔ وفاقی و صوبائی ٹیکس اور لیویز کے زیر التوا مقدمات بھی متعقلہ محکموں یا متعلقہ عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمد نہیں کیا جا سکے گا اور اگر تین ماہ میں نیب تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کا حقدار ہوگا مگر سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بے جا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کارروائی ہو سکے گی۔اس کے علاوہ نیب 50 کروڑ سے زائد کی کرپشن اور سکینڈل پر کارروائی کر سکے گا۔








