تمام تر کامیابیوں کی پیچھے والد کی تربیت کا ہاتھ ہے، کوہ پیما اشرف امان

اسلام آباد ۔ 29دسمبر(اے پی پی) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ پہلے پاکستانی کوہ پیما اشرف امان نے کہا ہے کہ تمام تر کامیابیوں کی پیچھے والد کی تربیت کا ہاتھ ہے،17سال کی عمر میں نانگا پربت پر کوہ پیمائی کرنے پر جرمن ٹیم نے ہمالین ٹائیگر کے ایوارڈ سے نوازا،12سال کی عمر میں والد نے تیراکی،گھوڑ سواری اور تلوار بازی …

اسلام آباد ۔ 29دسمبر(اے پی پی) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ پہلے پاکستانی کوہ پیما اشرف امان نے کہا ہے کہ تمام تر کامیابیوں کی پیچھے والد کی تربیت کا ہاتھ ہے،17سال کی عمر میں نانگا پربت پر کوہ پیمائی کرنے پر جرمن ٹیم نے ہمالین ٹائیگر کے ایوارڈ سے نوازا،12سال کی عمر میں والد نے تیراکی،گھوڑ سواری اور تلوار بازی کا ماہر بنایا۔اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے معروف کوہ پیما اشرف امان نے کہا کہ والد نے بچپن سے ہی میری تربیت پر بھر پور توجہ دی اور سختی سے پیش آئے ۔ کم عمری میں ہی مارچ کے دوران ٹھنڈے پانی کے تالاب میں تیراکی سیکھی جبکہ لکڑی سے بنی تلوار سے والد نے ٹرینگ دی ۔انہوں نے کہا کہ این ای ڈی انجینیرنگ کالج کراچی سے الیکٹریکل انجینیرنگ میں گریجویشن کیا اس لئے میرا شعبہ انجینیرنگ ہے جبکہ کوہ پیمائی میرا مشغلہ ہے جو میٹرک کے دوران شروع کیا اور پہلی بار 1962ء میں نانگا پربت چوٹی پر کوہ پیمائی کی تو جرمن ٹیم نے ہمالین ٹائگر کے اعزاز سے نوازا ۔بعد ازاں کوہ پیمائی کے سلسلے کو جاری رکھا اور بہت سے ملکی و غیر ملکی کوہ پیماوں کے ساتھ کوہ پیمائی کا موقع ملا

مزید خبریں