کوئٹہ۔ یکم جنوری ( اے پی پی )آزادجموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ1947ء سے اب تک مسئلہ کشمیر 5لاکھ کشمیریوں کی جانب سے جانوں کے نذرانے پیش کرنے اور پاکستان کے مضبوط ترین موقف کی وجہ سے زندہ ہے، 2019میں بھارت کی جانب سے 3ہزار سے زائد بارسیز فائر کی خلاف ورزی اور سویلین آبادی کونشانہ بنانے پر61کشمیری شہید جبکہ 230سے زائد زخمی ہوئے ہیں،،5اگست …
آزادجموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
کوئٹہ۔ یکم جنوری ( اے پی پی )آزادجموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ1947ء سے اب تک مسئلہ کشمیر 5لاکھ کشمیریوں کی جانب سے جانوں کے نذرانے پیش کرنے اور پاکستان کے مضبوط ترین موقف کی وجہ سے زندہ ہے، 2019میں بھارت کی جانب سے 3ہزار سے زائد بارسیز فائر کی خلاف ورزی اور سویلین آبادی کونشانہ بنانے پر61کشمیری شہید جبکہ 230سے زائد زخمی ہوئے ہیں،،5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد بلوچستان کی حکومت اور عوام نے جس طرح جرات اور بہادری سے مقبوضہ کشمیرکے بھائیوں کیلئے جس انداز سے آواز بلند کی اس پر بلو چستان حکومت اور عوام کے شکر گزارہیں ،یہ بات انہوں نے بدھ کو گورنر ہاؤس کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ بلوچستان آکر خوشی محسوس کررہاہوں ،5اگست کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ایک بار پھر حملہ کرکے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی بلکہ بھارت نے لداخ اور جموں وکشمیر کو الگ کرکے جعلی نقشے بھی جاری کئے ،اس تمام تر صورتحال کے بعد بلوچستان کی عوام اورحکومت نے جس جذبے ،جرأت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی عوام کاغیر متزلزل حمایت کرتے ہوئے ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریلیاںنکال کر پرگرام منعقد کئے، اس پر میں ان کا شکریہ اداکرتاہوں ،5اگست کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں بلوچستان کے تمام جماعتوں پر مشتمل ایک بڑا وفد مظفر آباد آیاتھا اور وہاں ہم نے مقبوضہ کشمیرکے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی بلکہ یہاں بلوچستان کے ہر شہر اور گائوں میں کشمیر کی حق خود ارادیت وحمایت اور بھارت کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں اورمظاہرے ہوئے۔ جہاں جہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایاگیا وہاں آزاد کشمیر کاجھنڈا بھی لہرایاگیا۔انہوں نے کہا کہ سال 2019ء کشمیری مسلمانوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوا،بھارتی وزیراعظم اور وزیر دفاع کے جارحانہ بیانات ایٹمی جنگ اور پاک بھارت ممالک سمیت پورے خطے کو جلا کر بھسم کرنے کا موجب بن سکتاہے ، ،2019 میں بھارت کی جانب سے 3ہزار سے زائد بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ان کی آئے روز گولہ باری کے باعث 61کشمیری شہید جبکہ 230سے زائد زخمی ہوئے ہیں ،عالمی سطح پر کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی تائید جبکہ بھارتی بیانیہ کو مسترد کیاجارہاہے ۔صدر آزادجموں کشمیر سردارمسعود خان نے کہاکہ کوئٹہ کے دورے کا بنیادی مقصد نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق بریفنگ اورتازہ ترین صورتحال سے متعلق آگاہی دینا تھی بلکہ ہم نے شرکاء کو اس سلسلے میں دنیا بھر اور اندرون ملک ہونیو الی کاوشوں سے متعلق بھی بتایا ،جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور کابینہ اراکین سے بھی بڑی مفید ملاقاتیں ہوئیں ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک جدوجہد آزادی جاری ہے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک ہے ،ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار اور انہیں گھروں میں نظر بند کیاگیاہے ،ہندوستان کی حکومت کے بقول مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں ،انہوں نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر آج بھی بھارت کی جانب سے حملے جاری ہے ان حملوں کی وجہ سے2019ء بدترین سال رہاہے۔ لائن آف کنٹرول پر حملوں کے باعث 5لاکھ 40ہزار کے قریب کشمیری متاثر ہورہے ہیں ،2019ء میں ایل او سی پر حملوں کے نتیجے میں 61افراد شہید اور230سے زائد زخمی ہوگئے ہیں بھارتی حکومت کی جانب سے ایل او سی پر3ہزار سے زائد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی ہے ،بھارتی حکومت کی جانب سے اس طرح کے وحشیانہ حملے قابل مذمت ہیں بلکہ ہم ان حملوں کو کشمیر میں جاری بھارتی جرائم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش سمجھتے ہیں ،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ 1947ء سے اب تک مسئلہ کشمیر دو وجوہات کی بناء پر زندہ ہے جس میں 5لاکھ کشمیریوں کی جانب سے جانوں کے نذرانے پیش کرنا اور پاکستان کا مضبوط ترین موقف شامل ہیں ،پاکستان کاکشمیر پر 1947ء میں جو موقف تھا وہ آج بھی ہیں بلکہ 5اگست کے بعد بین الاقوامی ،قومی اور علاقائی سطح پر اس تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے ،سردار مسعود خان نے کہاکہ کشمیر کے بارے میں نہ کسی قسم کا سمجھوتہ ہواہے نہ ہوسکتاہے ۔کشمیر کے بارے میں فیصلہ اہل جموں کشمیر کرینگے ،مسئلہ کشمیر کے تین فریق پاکستان ،بھارت اور اہل جموں کشمیر ،اہل جموں کشمیر قریبی فریق ہے لہٰذا ان سے پوچھے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوسکتا ،یہ محض ایک افواہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کوئی سمجھوتہ ہواہے بلکہ میں سمجھتاہوں کہ اس طرح کے افواہوں سے ہندوستان خوش ہوتاہے ،اس لئے ہندوستان کے ساتھ کشمیریوں کے مستقبل کے بارے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، سمجھوتہ تو دور کی بات بلکہ اس سلسلے میں بھارت کے ساتھ بات چیت بھی بند ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں صدر آزادجموں کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی وحشیانہ پالیسیوںاور جنگی جنون کی وجہ سے جنوبی ایشیاء کا امن تباہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان جنگی جنون سے نکل کر خطے کی ترقی پر توجہ دیں۔ مودی سرکار کی ظالمانہ و وحشیانہ کردار سے خطے میں بڑی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیںاس لئے عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار اداکرنا چاہیے ۔ مودی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے بعد بھارت میں بیس کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ مودی کی انتہا پسندانہ سوچ اور متشدد پالیسیاں پورے خطے کے امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔








