اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری ‘ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران امریکہ تنازعہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں‘ سب سے اولین کوشش جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے‘ ہم نے واضح کیا ہے کہ کسی صورت کسی دوست یا ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پالیسی بیان اور مسلم لیگ (ن) کے خواجہ محمد آصف کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری ‘ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران امریکہ تنازعہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں‘ سب سے اولین کوشش جنگ کے خلاف اور امن کے حق میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے‘ ہم نے واضح کیا ہے کہ کسی صورت کسی دوست یا ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘ ہم آگ لگانے میں نہیں آگ بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے‘ پاکستان یکطرفہ اقدام اور طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں‘ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام چاہتے ہیں‘ اگر امریکہ ایران تناﺅ بڑھا تو تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت شدید متاثر ہوگی اور خطے کے امن پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ ہم سب کی اولین ذمہ داری ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے‘ پاکستان ہماری پہلی ترجیح ہے اور رہے گی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پالیسی بیان اور مسلم لیگ (ن) کے خواجہ محمد آصف کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ آصف خود اس عہدے پر تعینات رہے ہیں اور وہ اتنے بے خبر ہیں جس پر انہیں حیرت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے پاکستان کی خودمختاری کا کبھی نہ سودا کیا ہے اور نہ کرے گی۔ مسلم لیگ ن کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سب جانتے ہیں۔ ہماری سمت واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ ہمسایہ ممالک پر ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک پڑوس میں امن و استحکام نہیں ہوگا ہماری اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 72سالوں سے چلے آرہے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کو شد و مد سے اٹھایا۔ 12 دسمبر کو میں نے سلامتی کونسل کے صدر کو اس ضمن میں ایک مکتوب بھی لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے افغانستان کے معاملے پر دنیا کو قائل کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے بلکہ سیاسی تصفیہ ہونا چاہیے اور دنیا قائل ہوئی ہے جس کے بعد گفت و شنید شروع ہوئی اور معاملات منطقی انجام تک آگے بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی مفادات اور جملہ بازی کے لئے ملکی مفادات کے خلاف بات کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر قوم کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے۔ یہ چین کی دیرینہ خواہش تھی اور اس میں پاکستان کا مفاد بھی ہے۔ موجودہ حکومت اس پر پیشرفت کر رہی ہے۔ سی پیک پر ہونے والی پیشرفت پر چین کی حکومت اور قیادت کو اعتماد ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چین کا دورہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوالالمپور میں ہونے والے اجلاس میں عدم شرکت کے معاملے پر پہلے بھی وضاحت دی جاچکی ہے۔ آج پھر وضاحت کرتے ہیں کہ یہ سمٹ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پہلے اپنی این جی اوز کے ذریعے چلائی جب وہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے اسے باضابطہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ تین چار مسلمان ممالک اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دوطرفہ معاونت سے اسے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں اسلامو فوبیا اور اس سے منسلک خطرات کا بھی ذکر ہوا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس کا تدارک ہونا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے بعض دوستوں کو جو امہ کا حصہ ہیں‘ انہیں قائل کرنے کے لئے وقت درکار تھا۔ یہ دوست سمجھ رہے تھے کہ اس سمٹ سے امہ تقسیم ہو جائے گی۔ پاکستان نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی مقدور بر کوششیں کیں اور ہم نے اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کیا۔ ہم نے مصلحت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کو پاکستان کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی ترکی کو کوئی اعتراض ہے۔ ترکی کے صدر عنقریب پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے خطے میں جو کشیدگی اور نازک صورتحال ہے وہ اس پر ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ یہ پورے خطے کا چیلنج ہے۔ جس قسم کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اس کے اثرات خطے سے باہر تک جائیں گے۔ ہمیں ایک باوقار راستے کا تعین کرنا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ایک تاریخ اور یہ تاریخ کئی تنازعات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے کے بعد واقعات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں اور صورتحال ابھی بن رہی ہے ۔ اونٹ نے کس کروٹ بیٹھنا ہے یہ ابھی طے ہونا ہے۔ ہمیں صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہے۔ یہ مسئلہ ہمارا پیدا کردہ نہیں لیکن ہم اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملک اور قوم کو جنگ کی چنگاریوں سے محفوظ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں اگر اپوزیشن کے پاس کوئی تجاویز ہیں تو وہ ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پیش کریں‘ ہمیں خوشی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صورتحال میں خاموش نہیں ہے۔ تین تاریخ کو جو کچھ ہوا اس صورتحال کے تناظر میں ہم نے پڑوسی مسلمان ممالک کے ساتھ رابطے کئے۔ ایران ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے جس نے کشمیر پر بھی آواز اٹھائی۔ میں نے پہلا فون ایران کے وزیر خارجہ کو کیا اور انہیں پاکستانی قوم کے جذبات اور تاثرات اور حکومت پاکستان کا موقف پہنچایا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت میں بھارت کی جانب سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششوں کو درست کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے حوالے سے کسی قسم کے منفی جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کوئی سودا نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی سودے بازی کی ہے۔ ہم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے پاکستان اور قوم کو شرمندگی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے بھی بات چیت ہوئی۔ امارات کے وزیر خارجہ بھی کشیدگی کو کم کرنے اور معاملات کو حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ سے بھی اس ضمن میں بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تنہا کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کر سکتا۔ ہمیں خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نازک ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی کہا ہے کہ اگر فریقین نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا تو خطے میں جنگ ہو سکتی ہے۔ ہم نے واضح کردیا ہے کہ ہم کسی صورت کسی دوست یا ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہمارا موقف ہے۔ ہم آگ لگانے نہیں آگ بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم یکطرفہ اقدام اور طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں۔ ہم عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام چاہتے ہیں۔ امریکہ کی حکومت وہاں کے لوگوں نے منتخب کی ہے۔ ان کا مائنڈ سیٹ سب کے سامنے ہے۔ اوباما ایڈمنسٹریشن سے موجودہ امریکی ایڈمنسٹریشن کی سوچ مختلف ہے۔ فرانس‘ جرمنی اور برطانیہ سمیت یورپی یونین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی سوچ یہ ہے کہ ہم نے حفظ ماتقدم کے طور پر یہ اقدام کیا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران نے کسی بھی ردعمل کا اظہار کیا تو سخت کارروائی کریں گے۔ تناﺅ بڑھ جانے سے تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ حملہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور خطے کے امن پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عراق اور شام مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افغان امن عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ حوثی باغی پھر متحرک ہوسکتے ہیں اور دوست ملک پر پھر حملے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ورنہ خطے میں بڑے پیمانے پر قتل وغارت ہوگی۔ اس سارے معاملے کی پیچیدگیوں کو ہمیں سمجھنا ہوگا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاک فوج نے قومی اتفاق رائے کے بعد دہشت گردی کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اعداد و شمار کہتے ہیں کہ2019ءکا سال دہشت گردی کے حوالے سے 2006ءکے بعد سے لیکر اب تک سب سے پرامن سال رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کو یکجا کرنا چاہتے ہیں۔ اس واقعہ سے ہمارا یہ اقدام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ایل او سی پر مسلسل فائرنگ ہو رہی ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019ءکے سٹیزن ایکٹ نے پورے بھارت میں آگ لگا دی ہے۔ بھارت اس صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے کسی مہم جوئی کا اقدام اٹھا سکتا ہے۔ ہمیں تمام چیلنجز اور پیچیدگیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ ہم اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سفارتی سطح پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔








