نیویارک۔ 7 جنوری (اے پی پی) لیبیا کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامی نے اس جنگ زدہ ملک میں بیرونی مداخلت پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیبیا نے جنگ سے بڑا نقصان اٹھایا اور اب وہ اس کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ …
لیبیا کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں،لیبیا میں غیر ملکی مداخلت پر اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کا اظہار ناراضگی

مزید خبریں
نیویارک۔ 7 جنوری (اے پی پی) لیبیا کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامی نے اس جنگ زدہ ملک میں بیرونی مداخلت پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیبیا نے جنگ سے بڑا نقصان اٹھایا اور اب وہ اس کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ موجودہ صورتحال میں بہت کم ممالک لیبیا کے عوام کے لئے سوچ رہے ہیں۔ ترکی کی جانب سے لیبیا میں قائم اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی مدد کے لئے فوجی دستے بھیجنے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کو مختلف حوالوں سے غیر ملکی مداخلت کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک لیبیا کو اس کے حال پر چھوڑیں ، یہاں پہلے ہی بہت زیادہ اسلحہ اور کرائے کے فوجی موجود ہیں جبکہ غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، لہذا یہاں کی صورتحال کو مزید خوفناک بنانے سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ انہوں نے جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی ناکامی کوبھی ہدفِ تنقید بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کا مسئلہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ انسانی بھی ہے، لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور بین الاقوامی برادری کوئی کردار ادا نہیں کر رہی ۔ انہوں نے رواں ماہ کے آخر میں جرمنی کی طلب کردہ بین الاقوامی کانفرنس کے جلد انعقاد کی توقع بھی ظاہر کی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے لئے ماسکو میں جرمن لیڈر انجیلا مارکل اور روسی ہم نصب پیوٹن کی ملاقات فیصلہ کن ثابت ہوگی کیونکہ کانفرنس میں صدر پیوٹن کی شرکت اہم ہے ۔ کانفرنس میں ترک صدر اردگان بھی مدعو ہیں۔ واضح رہے کہ روس نے حال ہی میں لیبیا کے عسکری کمانڈر خلیفہ حفتر کی مدد کرنے کی تردید کی ہے۔








