اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹھیکیدار میاں منیر نے چوہدری شوگر ملز کے اکاﺅنٹس میں 560 ملین روپے منتقل کئے جو کہ مریم نواز شریف کی ملکیت ہے، چوہدری شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا، میاں شہباز شریف نے ابھی تک میرے سوالات …
وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹھیکیدار میاں منیر نے چوہدری شوگر ملز کے اکاﺅنٹس میں 560 ملین روپے منتقل کئے جو کہ مریم نواز شریف کی ملکیت ہے، چوہدری شوگر ملز کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا، میاں شہباز شریف نے ابھی تک میرے سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ کے اثاثہ جات کی مالیت تقریباً 6 ارب روپے کے لگ بھگ ہے، جب 1991ءمیں یہ قائم کی گئی تو اس کی مالیت صرف 13 لاکھ روپے تھی، فرضی قرضوں، جعلی ٹی ٹیز اور براہ راست کک بیکس کے باعث چوہدری شوگر ملز نے ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے فیصل انویسٹمنٹ بینک کی معاونت سے چاڈرن جرسی لمیٹڈ کے نام سے ایک آف شور کمپنی بنائی اور 398 ملین قرضہ حاصل کیا۔ ورلڈ بینک کے سٹار پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق چاڈرن جرسی لمیٹڈ کے اصل ملک فیصل انویسٹمنٹ بینک نہیں بلکہ محمد نواز شریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے قاضی خاندان کے نام پر جعلی فارن اکاﺅنٹ کھلوائے اور اس میں 15.37 ملین ڈالر جمع کرائے جو کہ نواز شریف نے دیئے تھے۔ انہوں نے چوہدری شوگر ملز (چیف ایگزیکٹو آفیسر شہباز شریف) کیلئے 80 ملین روپے کا قرضہ، ہجوہری مداربہ (اسحاق ڈار چیف ایگزیکٹو آفیسر) کیلئے 35 ملین روپے کا قرضہ اور حمزہ بورڈ ملز لمیٹڈ (چیف ایگزیکٹو آفیسر حمزہ شہباز) کیلئے 70 ملین روپے کا قرضہ حاصل کیا۔ پاک پنجاب کارپٹ نے نیشنل بینک اور مہران بینک سے 65 ملین روپے قرضہ حاصل کیا اور اس کو چوہدری شوگر ملز کو منتقل کیا۔ بعد ازاں 105 ملین روپے کا قرضہ معاف کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فیملی کے جعلی فارن کرنسی اکاﺅنٹس کے ذریعے 15.37 ملین ڈالر کی بیرون ملک سے جعلی ترسیل کی گئی۔ صدیقہ سیّد کے نام سے 18 ملین ڈالر جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے 1998ءمیں چوہدری شوگر ملز میں بھیجے گئے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ حانی احمد جم جوم کے نام سے 1.25 ملین ڈالر جعلی ٹی ٹی کے ذریعے چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاﺅنٹ میں منتقل کئے گئے۔ ناصر عبداﷲ لوتھا کے نام سے 4.88 ملین ڈالر جعلی ٹی ٹی کے ذریعے چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاﺅنٹ میں منتقل کئے گئے۔ مخدوم عمر شہریار کے نام سے 33 ملین ڈالر جعلی ٹی ٹی کے ذریعے چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاﺅنٹ میں منتقل کئے گئے۔ 2010ءمیں حسن نواز شریف کی جانب سے ایک ملین ڈالر چوہدری شوگر ملز کے اکاﺅنٹ میں منتقل کئے گئے، 2010ءتا 2018ءمیں یوسف عباس شریف کی طرف سے 30 ملین روپے قرضہ چوہدری شوگر ملز میں منتقل کیا گیا۔ نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پراجیکٹ سے 560 ملین روپے کک بیکس کی رقم منتقل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے 45 فیصد حصص کو غیر ملکی افراد کے نام پر بے نامی دار مالک کے طور پر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں جعلی ترامیم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ سے قائم کی گئی چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ کے اصل مالک میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میاں نواز شریف طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا ہیں اور لندن میں مقیم ہیں۔ اسحاق ڈار مفرور ہیں اور لندن میں مقیم ہیں، حسن اور حسین نواز شریف بھی طلب کرنے کے باوجود مفرور اور لندن میں مقیم ہیں۔ میاں شہباز شریف جو کہ چوہدری شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے ہیں اور اس منی لانڈرنگ میں مکمل طور پر معاون اور شریک رہے ہیں نیب کے بار بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔








