معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا ترجمان دفتر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں ہے، عالمی ادارہ صحت نے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ کوئی ملک چین سے اپنے باشندوں کو نہ نکالے، اگر شہریوں کو چین سے نکالنا شروع کر دیا تو وائرس پوری دنیا میں پھیل جائے گا، یہ ہمارے …

اسلام آباد ۔ 30 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں ہے، عالمی ادارہ صحت نے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ کوئی ملک چین سے اپنے باشندوں کو نہ نکالے، اگر شہریوں کو چین سے نکالنا شروع کر دیا تو وائرس پوری دنیا میں پھیل جائے گا، یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں، مناسب وقت پر ہی مناسب اقدامات کریں گے عجلت نہیں کریں گے، صحت عامہ کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی صحت نے کہا کہ اب تک کرونا وائرس 15 ملکوں میں پھیل چکا ہے اور 7831 افرد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اس سے 170 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اب تک شہریوں کو نکالنے کی اجازت بھی نہیں دی اور امریکہ نے اب تک ویانا کنونشن کے مطابق صرف سفارتکاروں کو ہی نکالا ہے، شہریوں کو نہیں نکالا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم چین اور بین الاقوامی ذمہ داری کے تحت اس بیماری کو پھیلنے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا جبکہ چین میں چار پاکستانی طلباءمیں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے لیکن ان کی حالت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے، حکومت ووہان میں پاکستانیوں کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنائے ہوئے ہے۔ چین میں پاکستانی سفارتخانہ دن رات ہمارے چین میں مقیم شہریوں سے رابطہ میں ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین نے پبلک ہیلتھ کے حوالے سے ذمہ دار پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے تمام ممبر ممالک کو ہدایت کی ہے کہ کوئی ملک چین سے اپنے باشندوں کو نہ نکالے، اس کا مقصد حکومت چین کا ووہان تک اس وائرس کو محدود کرنا ہے، اگر شہریوں کو مختلف ممالک نکالیں گے تو دنیا بھر میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے مت نکالیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین میں پاکستان کے سینکڑوں طلباءزیر تعلیم جبکہ مجموعی طور 18 سے 30 ہزار تک پاکستانی مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً50 ہزار چینی شہری سی پیک یا دیگر منصوبوں میں کام کر رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ چین میں مقیم تمام پاکستانی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو تحظ دینے کیلئے جامع پروگرام وضع کر رہے ہیں، ایئر پورٹس پر بھی ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔