قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا ”بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے 6 سال اور چین پاکستان اقتصادی راہداری“ کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری ملک کے مشکل معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گی، سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت اور سماجی شعبہ کو بھی شامل کر لیا گیاہے جس سے پاکستان کو زرعی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات …

اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری ملک کے مشکل معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گی، سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت اور سماجی شعبہ کو بھی شامل کر لیا گیاہے جس سے پاکستان کو زرعی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد سٹاک ایکسچینج (آئی ایس ای) کے اشتراک سے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ”بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کے 6 سال اور چین پاکستان اقتصادی راہداری“ کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسد قیصر نے سی پیک کو ملک کی خوش قسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے سی پیک پاکستان کو معاشی دلدل سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گا۔ چین میں کرونا وائرس کے بارے میں اسد قیصر نے کہا کہ چین نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک کمیٹی بنانا اور اسے تھنک ٹینک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایس ڈی پی آئی اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جِنگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو اور سی پی ای سی اور دیگر بین الاقوامی تعاون کے منصوبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر آئی نے مستفید ممالک کےلئے قابل اعتبار اور ٹھوس فوائد فراہم کئے اور سی پیک اس کی کامیاب مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سی پیک کو چین اور پاکستان کے تاریخی تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہا ہوں جہاں سی پیک نے اقتصادی محاذ پر نئی توجہ اور نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی واضح سمت اور مستقل پالیسیوں کے تحت طویل مدتی مدد ہوگی۔ کرونا وائرس کی وباءکے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون نہیں رکے گا، ہم مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستانی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں زیادہ اعتماد دیا ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ 6 سال پہلے جب سی پی ای سی شروع ہوا تو پاکستان میں 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی اس سے نمٹنے کےلئے ہم جنریٹرز استعمال کرتے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ سی پیک کے حوالہ سے دنیا میں مختلف قسم کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ سی پیک کا منصوبہ چین کا استعماری منصوبہ ہے جس سے پاکستان پر چین کا غلبہ ہوگا اور پاکستان چینی قرضوں کے جال میں پھنس کر رہ جائے گا جبکہ گوادر کو تجارتی منصوبے کے بجائے ایک تزویراتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے،جو کہ درست نہیں،یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جو اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر کا چاہ بہار بندرگاہ (ایران) کے ساتھ مقابلہ غلط ہے کیونکہ اس کا اس سے کوئی موازنہ نہیں ہے کیونکہ گوادر گہری سمندری بندرگاہ ہے جبکہ چاہ بہار گہری سمندری بندرگاہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین مشترکہ خوشحالی اور ترقی کےلئے تعاون کر رہا ہے۔ چین اب ایشیاءکےلئے ایک مشترکہ معاشی اہم مقام بن گیا ہے کیونکہ چین بنیادی ڈھانچہ میں ایشیئن ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں پاکستان، افغانستان، بھوٹان وغیرہ شامل ہیں۔ چین خطہ میں معاشی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہندوستان اور پاکستان میں امن کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید خبریں