بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، مسائل کے حل کا بہترین طریقہ مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب
بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، مسائل کے حل کا بہترین طریقہ مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے مسائل پر گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا، بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں، جو اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں انہیں خوش آمدید کہنا چاہیئے، بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں شامل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، مسائل کے حل کا بہترین طریقہ مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے، تمام جائز شکایات دور کریں گے۔ وہ جمعہ کو بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء، ارکان اسمبلی، بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور عمائدین نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے ورکشاپ کے شرکا کو حکومت کی جانب سے خوش آمدید کہا ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل ہے جن کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈائیلاگ کا مقصد صرف حکومت کی بات سنانا نہیں بلکہ شرکا اور بلوچ عوام کی بات سننا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی بلوچستان کے مختلف حصوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، قاضی محمد عیسیٰ، میر جعفر خان جمالی، اکبر بگٹی سمیت بلوچ عمائدین اور عوام نے سوچ سمجھ کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا، اس کے بعد کی دہائیوں میں جو واقعات اور حالات ہوئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں، بلوچستان کے معاملات کو ڈائیلاگ سے حل کرنا چاہیئے تھا ۔ 1970 ءمیں بلوچستان کو چوتھے صوبے کا درجہ ملا، بلوچستان معدنیات سمیت دیگر وسائل سے مالامال ہونے کے سبب امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ وسائل سمندر اور پہاڑوں میں مدفون ہیں، ان سے استفادے کیلئے سرمائے اور مہارت کی ضرورت ہے ، وفاق اور صوبہ مل کر ہی اس کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیےکے لحاظ سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے تعلیم و صحت کی سہولیات اور شاہراہوں کی تعمیر میں مشکلات ہیں، ان مسائل کے حل کیلئے باہمی مشاورت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ضرورت ہے لیکن مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ، کوئی محب وطن یہ نہیں کرسکتا ، بلوچستان میں مزدوری کرنے والوں کو یا شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرنا جائز نہیں، باہمی گفت و شنید سے مسئلہ حل کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے گھس بیٹھیے، فتنۃ الخوارج اور دشمن ممالک سے وسائل حاصل کرنے والے ہیں جو بے گناہوں کو شہید کر رہے ہیں، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے نبرد آزما ہیں اور قربانیاں دے کر عوام کو محفوظ بنا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن این 25 شاہراہ تعمیر کر رہے ہیں، 415 ارب روپے کا منصوبہ وفاق نے دیا، یہ چاروں صوبوں کے عوام کا پیسہ تھا جو بلوچستان پر لگا رہے ہیں ، یہ بلوچستان کے عوام کیلئے ہے۔ مسائل کی آڑ میں بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں ، ماضی میں جو ہوگیا سو ہوگیا، اب مسائل کو سامنے رکھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا ہوں گے، اگر ہمارے بیٹیاں اور بیٹے اپنا راستہ درست کرنے کیلئے تیار ہیں تو انہیں خوش آمدید کہنا چاہیئے ۔ وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے شاہراہ پر کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پوری قوم یک جان دو قالب تھی، آج ہمیں بیٹھ کر فرینک ڈائیلاگ کرنا چاہئیں ، اسی سے راستے نکلیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین اور شاندار بندرگاہ ہے، گوادر پورٹ پر ایک لاکھ ٹن کا مال بردار جہاز لنگرانداز ہو سکتا ہے، گوادر کا ہوائی اڈہ عظیم دوست چین کی طرف سے تحفے میں ملا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطالبے پر 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا، 70 ارب روپے کے شمسی منصوبے میں 40 ارب روپے وفاق نے خرچ کئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر وفاق نے فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا، پنجاب نے 11 ارب روپے سالانہ بلوچستان کو فراہم کئے۔
میں اس وقت وزیر اعلیٰ تھا، ایک دن کیلئے بھی دل میں خیال نہیں آیا کہ کیوں ؟ کیونکہ ریاست کی چاروں اکائیاں ترقی کے عمل میں برابر کی شریک ہیں، اگر روٹی ایک ہو تو چاروں بھائیوں کو تقسیم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ لے کر میں پنجاب اسمبلی میں گیا تو ارکان نے زور دار تالیاں بجائیں ، ہم اخوت کے رشتوں میں بندھے ہیں ، اسی جذبے سے بلوچستان کو لیپ ٹاپ، ہونہار طلبہ میں وظائف کی تقسیم میں شامل کیا، ان کا حصہ ان کی آبادی کے تناسب سے بھی دس فیصد زیادہ رکھا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے 9 اضلاع میں دانش سکول قائم کئے جا رہے ہیں جن میں ایچی سن کے معیار کی تعلیم دی جاتی ہے کیونکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے بچے بھی معیاری تعلیم کے حقدار ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ چمن شاہراہ کیلئے مزید سو یا دو سو ارب بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں لیکن دہشت گردوں کو نہ روکا گیا تو صوبے میں ترقی کا عمل رکنے کا خدشہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ہوا، اس میں مزید اضافہ متوقع ہے ، چاول کے کاشتکاروں کو برآمدات میں کمی کے باعث 11 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاکہ وہ دیگر ممالک کا مقابلہ کرسکیں اور ملک میں ڈالر آئیں ، صرف ایک آئٹم کی سمگلنگ روکنے سے 125 ارب روپے قومی خزانے میں آئے، عوامی مفاد میں مل کر کام کریں تو ترقی و خوشحالی کا انقلاب آ سکتا ہے ۔
وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کو کوئٹہ جا کر صوبے میں سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کی ہدایت پر بتایا کہ صوبے میں دو بہترین ہسپتال امراض دل کا علاج کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ زمینداروں کو اس سے بڑا فائدہ ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ انسانی حد تک بلوچستان کی ترقی کیلئے وسائل فراہم کریں گے لیکن سکیورٹی کی ذمہ داری لینا ہوگی ۔
ایک سوال کے جواب کیلئے وزیراعظم نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو موقع دیا جنہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی کے لئے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ رکھا، پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لئے 200 ارب اور پنجاب کے لئے 70 ارب روپے رکھے گئے، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے دور میں بھی بلوچستان میں 650 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، گوادر شاہراہ کی تعمیر کے دوران 43 مزدوروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے نمائندہ افراد کو مدعو کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔








