اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زرعی مصنوعات نے زرعی شعبہ کی ترقی، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے 6 جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ ایم او یو کے تحت زرعی جامعات سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں قائم کردہ خصوصی کمیٹی کو تکنیکی معاونت فراہم کریں گی۔ …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زرعی مصنوعا ت کے زرعی ترقی کے سلسلہ میں 6 جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زرعی مصنوعات نے زرعی شعبہ کی ترقی، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تعاون کو فروغ دینے کیلئے 6 جامعات کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ ایم او یو کے تحت زرعی جامعات سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں قائم کردہ خصوصی کمیٹی کو تکنیکی معاونت فراہم کریں گی۔ جمعرات کو منعقدہ تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی موجودگی میں ایم او یو پر دستخط کئے گئے۔ ایم او یو کے تحت جامعات شراکت داروں کے ساتھ مل کر کمیٹی کی ضرورت کے مطابق شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کریں گی، عوامی سماعتوں اور پالیسی ڈائیلاگ کا بھی انعقاد کریں گی جبکہ اس حوالہ سے جامعات کے وائس چانسلرز اور زرعی تحقیقی اداروں کے سربراہان سے رابطوں کو بھی فروغ دیں گی۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے زرعی شعبہ میں مسابقت کے عمل کو فروغ دینے، منافع بخش بنانے اور اس کی پائیدار ترقی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی جامعات زرعی علم کا ذخیرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور انٹیلکچوئل کیپٹل زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کی کامیابی سے منتقلی کیلئے حکومت شواہد اور معلومات پر مبنی پالیسیوں کوفروغ دے گی اور زرعی شعبہ کیلئے قوانین پرعملدرآمد ، پالیسیوں اور سٹرٹیجک ترجیحات کی نگرانی کرے گی۔ خصوصی کمیٹی برائے زراعت زرعی شعبہ کی ترقی میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے کیلئے حکومت میں ہر سطح پر روابط کے فروغ، خصوصی مشاورت اور پالیسی ڈائیلاگ میں سہولت کی خواہاں ہے۔ کمیٹی کے کنوینئر سید فخر امام کی زیر صدارت اجلاس میں ٹڈی دل کیخلاف نیشنل ایکشن پلان کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جامعات کے وائس چانسلرز نے کہا کہ تحقیقی اداورں اور یونیورسٹیوں کو ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے مزید سائنسی بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔ اجلاس میں اس حوالے سے چیئرمین پی اے آر سی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں زرعی یونیورسٹیوں کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ کمیٹی نے جامعات پرزور دیا کہ وہ زرعی کریڈٹ، زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو ایڈیشن، ہارٹیکلچر کے شعبہ کی ترقی، زرعی ادویات کی ریگولیشن، کھادوں، بیج اور زرعی تحقیق کی ترقی پر توجہ دیں۔ ذیلی کمیٹی نے تحقیقی شعبوں، یونیورسٹیوں، توسیعی محکموں اور کاشتکاروں کے درمیان تعاون کے فروغ کیلئے عملی سفارشات طلب کر لیں۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام، لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ واٹر سائنسز، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، پیر مہر علی شاہ زرعی بارانی یونیورسٹی راولپنڈی کے نمائندوں نے بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔








