اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبہ میں پرانی ٹیکنالوجی نہیں چل سکتی، ہمیں اس شعبے کی بہتری کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہو گا، انرجی مکس تبدیل کر رہے ہیں، ماضی میں بجلی کی خرید و فروخت کے مہنگے معاہدے کئے گئے، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پوراکرنے کے لئے …
توانائی کے شعبہ میں بہتری کےلئے جدید ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہو گا، عمر ایوب خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبہ میں پرانی ٹیکنالوجی نہیں چل سکتی، ہمیں اس شعبے کی بہتری کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہو گا، انرجی مکس تبدیل کر رہے ہیں، ماضی میں بجلی کی خرید و فروخت کے مہنگے معاہدے کئے گئے، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پوراکرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، 2030ءتک متبادل توانائی سے پیداوار کو بڑھایا جائے گا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں نیپرا کے زیر اہتمام ہفتہ توانائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ ملک کے بہتر مستقبل اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے سستی توانائی کی فراہمی ضروری ہے اور آج کا دور صاف توانائی کا دور ہے۔ ماضی میں بجلی کی خریداری کے مہنگے معاہدے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم 75 فیصد بجلی جو استعمال کررہے ہیں ۔اس انحصار درآمدی ایندھن پر ہے جس سے اس کا روپے کی قدر پر پڑتا ہے اور درآمدی بل بھی بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب ان مسائل سے نمٹنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ انرجی مکس میں متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانا ہو گی۔ 2025ءتک ہم اسے 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد تک لے جائیں گے اور70 سے 80 فیصد بجلی ملکی وسائل سے پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی کمپنیاں اب پاکستان میں آرہی ہیں اور پہلی مرتبہ بجلی کی طلب کا تجزیہ سائنسی بنیاد پر کیاجا رہا ہے جو ٹیکنالوجی اس وقت میرے پاس ہے وہ اب پرانی ہو چکی ہے ۔ ہمیں جدید ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہوگا۔ بجلی کی پیداوار کے شعبے میں 40 ارب ڈالر، بجلی کی ترسیل کے شعبے میں 20 ارب ڈالر اور تقسیم کے شعبے میں 15 سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گنجائش موجود ہے اور منافع کی واپسی کی زیادہ شرح اور زیادہ آبادی کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 18 سے 20 فیصد معیشت غیر دستاویزی ہے جس کا حجم روایتی جی ڈی پی300 ارب ڈالر کے بعد 600 ارب ڈالر بنتا ہے جبکہ سعودی عرب کی مجموعی جی ڈی پی 850 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دیناہو گا۔








