جنگ کوئی راستہ نہیں، افغان فریقوں کو ایک دوسرے کےلئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان معاہدے میں یہ درج ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، صدر اشرف غنی معاہدے کی وضاحت امریکہ سے مانگیں، دوحہ مذاکرات پہلا قدم تھا اب اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں، اگر ہٹ دھرمی سے کام لینا ہے تو بات آ گے نہیں بڑھ پائے گی۔ منگل کو افغان امن …

اسلام آباد ۔ 3 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان معاہدے میں یہ درج ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، صدر اشرف غنی معاہدے کی وضاحت امریکہ سے مانگیں، دوحہ مذاکرات پہلا قدم تھا اب اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں، اگر ہٹ دھرمی سے کام لینا ہے تو بات آ گے نہیں بڑھ پائے گی۔ منگل کو افغان امن عمل کے حوالہ سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ جو موقع میسر آ یا ہے اسے گنوا نا نہیں چاہیے، افغان قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سازگار ماحول پیدا کرے جس سے گفتگو آگے بڑھے، دوحہ میں جو ہوا وہ پہلا قدم تھا اب اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں، اس کی اعتماد سازی کےلئے دونوں فریقوں کو آگے بڑھنا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر اشرف غنی ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور طالبان بھی فراخدلی کا مظاہرہ کریں، یہ عمل آ سان نہیں لیکن کامیاب نہ ہوا تو نقصان افغانستان کا اور افغان عوام کا ہو گا، 20 سال کی جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا اور جنگ کوئی راستہ نہیں ہے، اب فریقین کو ایک دوسرے کےلئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی۔ یہ افغان قیادت کی اور وہاں موجود تمام دھڑوںکی آ زمائش ہے کہ وہ آ گے بڑھتے ہیں یا اسی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیک نیتی سے چاہتا ہے کہ معاملات سدھریں، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے، پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا وہ کیا اور دنیا نے اس کو سراہا، اس معاہدے پر اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے، اس میں آ گے بڑھنے کےلئے افغان جو اقدامات اٹھائیں گے پاکستان ان کی حمایت کرے گا، پاکستان ایک سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے ان کے فیصلے نہیں کر سکتا، امریکہ طالبان معاہدے میں یہ درج ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر اشرف غنی کو چاہئے کہ وہ معاہدے کی وضاحت امریکہ سے مانگیں، میری معلومات کے مطابق زلمے خلیل زاد مذاکرات کے حوالے سے افغان قیادت کو آ گاہ کرتے رہے ہیں، ماضی میں بھی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب جنگ سے امن کی طرف بڑھتے ہیں تو خیرسگالی کےلئے یہ کرنا پڑتا ہے اور قیدیو ں کی رہائی یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہٹ دھرمی سے کام لینا ہے تو بات آ گے نہیں بڑھ پائے گی، یہ ایک منطقی قدم ہے جو اٹھنا چاہئے، معاہدوں کے ساتھ رویوں کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ رکاوٹیں ڈالنے والے تو پہلے بھی تھے لیکن اب افغانستان کی سیاسی قیادتِ کا کمال یہ ہو گا کہ وہ ان کی کوششوں کو ناکام بنا دے۔