مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے قانونی بنک ذرائع سے ترسیلات زربجھوانے کی حوصلہ افزائی کیلئے متعدد اقدامات اور اس مقصد کیلئے 9.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی ہے، ای سی سی نے مختلف یونیورسٹیوں کو فنڈز کی فراہمی کے ضمن میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری …

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے قانونی بنک ذرائع سے ترسیلات زربجھوانے کی حوصلہ افزائی کیلئے متعدد اقدامات اور اس مقصد کیلئے 9.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی ہے، ای سی سی نے مختلف یونیورسٹیوں کو فنڈز کی فراہمی کے ضمن میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کیلئے 5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دیدی ہے جبکہ اجلاس میں بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویل صارفین کوزرتلافی دینے کی مدت میں توسیع کی بھی منظوری دیدی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بنکنگ چینلزکے ذریعے ترسیلات زربجھوانے کی حوصلہ افزائی کیلئے متعدد اقدامات کی منظوری دیدی گئی۔ ان اقدامات کیلئے 9.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دیدی گئی ہے، ان اقدامات میں 100 ڈالر سے لیکر200 ڈالر تک کی لین دین پر ری بیٹ کی شرح ایس اے آر 10 سے بڑھا کر ایس اے آر20 کرنا، مالی سال 2018-19 میں بنکوں اورایکسچینج کمپنیوں کیلئے مراعاتی سکیم کو کیلنڈرسال 2020 کے آغاز(یکم جنوری) سے جاری رکھنا جس کے تحت مالیاتی اداروں کو پانچ فیصد بڑھوتری کی صورت میں فی ڈالر 50 پیسہ ، 10 فیصد بڑھوتری کی صورت میں فی ڈالر75 پیسہ اور15 فیصد بڑھوتری کی صورت میں فی ڈالرایک روپیہ کی ادائیگی،ترسیلات زر بنک اکاونٹ میں منتقل کرنے کی صورت میں یکم جولائی 2020ءسے ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ اور یکم ستمبر 2020ءسے کمرشل بنکوں اورحکومتی ایجنسیوں کے تعاون سے نیشنل ریمیٹنس لائلٹی پروگرام کا آغاز شامل ہے، اس پروگرام کے تحت بنکنگ ذرائع سے ترسیلات زرکرنے والوں کا موبائل ایپس اورکارڈز کے ذریعے مراعات دی جائیگی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وفاقی وزارت تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت کی تجویزپر مالی سال 2019-20 ءکیلئے 5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی، یہ گرانٹ ہائیرایجوکیشن کمیشن کو فراہم کی جائیگی، ہائیرایجوکیشن کمیشن اس گرانٹ کومختلف یونیورسٹیوں میں منصفانہ اورضرورت کی بنیاد پر تقسیم کرے گا۔ اجلاس میں نیشنل سکیورٹی ڈویژن کی تجویزپر سٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل (ایس پی پی سی) کیلئے 15 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، یہ سیل وزیراعظم کی منظوری سے نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں قائم کیا گیاہے جس کامقصد قومی سلامتی کے کلیدی امورمیں پیشہ وارانہ، دانشورانہ اور شواہد پرمبنی ان پٹ کا حصول ہے۔ اجلاس میں وزارت دفاع کی تجویزپراندرونی سکیورٹی ڈیوٹی الاونس کی مد میں پاک فضائیہ کیلئے 34.528 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں پیٹرولئیم ڈویژن کی تجویز سوئی سدرن کو گیس کی تخصیص و فراہمی اوررحمان 4 ویل کھیرتھرسے ٹائیٹ گیس کی مشروط فراہمی کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں جولائی 2016ءسے لیکر مارچ2019ءتک کے الیکٹرک کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، ارکان کی رائے سننے کے بعد وفاقی وزیرعمرایوب خان، وزیراقتصادی امورحماد اظہر، ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن، سیکرٹری خزانہ اورکے الیکٹرک کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، یہ کمیٹی مسئلہ کا تفصیل سے جائزہ لے گی اورایک ہفتے میں ان مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل ای سی سی کے سامنے پیش کرے گی۔ اجلاس میں بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلزصارفین کو زرتلافی میں توسیع سے متعلق وزارت توانائی کی تجویز کاجائزہ لیاگیا،اجلاس کو بتایاگیاکہ یکم جنوری 2015ءسے لیکر اب تک بلوچستان میں 30 ہزار زرعی صارفین کو زرتلافی دی جاچکی ہے، اس میں بلوچستان حکومت کا حصہ 60 اوروفاقی حکومت کا حصہ 40 فیصد ہے تاہم اس کے باوجود زرتلافی کے حد سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بجلی کے نادہندہ صارفین سے وصولیوں میں کامیابیاں نہیں ملی ہیں، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وفاقی وزیرعمرایوب پرمشتمل کمیٹی قائم کردی جو اس معاملے کاتفصیل سے جائزہ لے گی اوربلوچستان کی حکومت سے بات چیت کرے گی تاکہ معاملے کا منصفانہ حل سامنے آسکے، اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مد میں وفاقی حکومت سالانہ ۹ ارب روپے ادا کررہی ہے، ای سی سی نے معاملہ کے حل تک بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل کے صارفین کو زرتلافی دینے کی مدت میں توسیع کی منظوری دیدی۔ وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے میسرز طوارق سٹیل ملزلیمیٹد کی بحالی کی تجویزپر ای سی سی نے وزارت کو سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے اور اس کی روشنی میں تجاویز ای سی سی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔