وزیر اعظم کے معاون خصوصی محمد عثمان ڈار کی ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی سربراہی میں ملنے والے وفد سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں ملازمت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کو جدید بنانا ہوگا، تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت میں جدت کے لئے ادارہ جاتی انتظامات ہمارا ہدف ہے، ملک میں زیادہ تر نوجوان اعلیٰ ہنر مندانہ مہارتوں کے سلسلے میں تربیت حاصل …

اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں ملازمت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کو جدید بنانا ہوگا، تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت میں جدت کے لئے ادارہ جاتی انتظامات ہمارا ہدف ہے، ملک میں زیادہ تر نوجوان اعلیٰ ہنر مندانہ مہارتوں کے سلسلے میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور بڑھتے ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد اصغر، ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی سربراہی میں ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں فن لینڈ کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کے ماہرین بھی شامل تھے۔محمد عثمان ڈارنے کہا کہ وزیر اعظم کامیاب جوان پروگرام کے تحت ”ہنر سب کے لئے“ کا مقصد روایتی اور جدید شعبوں میں نوجوانوں کو مختلف مہارت مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کامیاب جوان پروگرام کے تحت قومی انٹر ن شپ پروگرام اور یوتھ انٹرپرینیورشپ کا مقصد ملک میں روزگار پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کو یقینی بنائے گی جو یقینی طور پر ملک کے لئے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد اصغر نے تکنیکی اور پیشہ ورانہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ فن لینڈ پاکستان بزنس کونسل (ایف پی بی سی) کے چیئرمین ولی ایروولا نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہترین طریقوں کو اپناکراور نوجوانوں کو متعلقہ مہارتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے سے ملازمت کا تناسب سو فیصد ہوسکتا ہے۔محمد عثمان ڈار نے فن لینڈ کے تعاون سے پاکستان میں ایک سنٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تجویز پر ابتدائی کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔