اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان اس میں مداخلت نہیں کرے گا، افغانستان کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھائے تاکہ وہاں امن، استحکام اور خوشحالی آئے، اس عمل کو کیسے آگے بڑھانا ہے اس بات کا فیصلہ افغان کریں گے …
انٹرا افغان ڈائیلاگ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا، امن معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہو گی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان اس میں مداخلت نہیں کرے گا، افغانستان کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھائے تاکہ وہاں امن، استحکام اور خوشحالی آئے، اس عمل کو کیسے آگے بڑھانا ہے اس بات کا فیصلہ افغان کریں گے لیکن پاکستان افغانستان میں امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض عناصر چاہتے تھے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات نہ ہوں اس لئے پہلے بھی مشکلات تھیں اور اب بھی ہوں گی، افغان مسئلے کا سیاسی حل دنیا تسلیم کر چکی ہے اور افغان عوام بھی متفق دکھائی دیتے ہیں، پاکستان انٹرا افغان ڈائیلاگ کیلئے پر امید ہے اور توقع ہے کہ یہ عمل آگے بڑھے گا کیونکہ اس کے علاوہ افغانستان میں امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں صورتحال خراب ہو کیونکہ اس سے خطے میں کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہو گی، توثیق کے بعد اس معاہدے کو عالمی تائید اور حمایت حاصل ہو گی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی کے تجربات کے باعث تجویز تھی کہ افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کا انخلاءایک دم نہ ہو، اسی لئے امن معاہدے میں طے پایا کہ 135 دنوں میں انخلاءکا عمل شروع ہو گا جو 14 ماہ میں مکمل ہو گا۔







