کوئٹہ۔ 06مارچ ( اے پی پی ( وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال سے سے نبرد آزما ہونے کے لیے بلوچستان حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے، پاک ایران سرحدی علاقے میں دو ہزار زائرین انڈر آبزرویشن ہیں، خطے میں کرونا وائرس سے کم متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، صورتحال کو وزیر اعظم پاکستان خود مانیٹر کررہے ہیں، کرونا …
کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال سے سے نبرد آزما ہونے کے لیے بلوچستان حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے، وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
کوئٹہ۔ 06مارچ ( اے پی پی ( وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال سے سے نبرد آزما ہونے کے لیے بلوچستان حکومت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے، پاک ایران سرحدی علاقے میں دو ہزار زائرین انڈر آبزرویشن ہیں، خطے میں کرونا وائرس سے کم متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، صورتحال کو وزیر اعظم پاکستان خود مانیٹر کررہے ہیں، کرونا وائرس سے درپیش صورتحال سے نمٹنے کیلئے بلوچستان حکومت کو مطلوبہ طبی و تشخیصی سامان فراہم کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ میںپریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ریٹائرڈ) فضیل اصغر، آئی جی بلوچستان محسن حسن بٹ اور دیگر حکام موجود تھے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک ایران بارڈر پر زائرین کا دباو کم کرنے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ بارڈر پر موجود تمام صوبوں کے زائرین کو ان کی صوبائی حکومتیں اپنے صوبوں میں لے جاکر انڈر آبزرویشن رکھیں اور ان کی نگہداشت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے تناظر میں پاکستان کی پوزیشن دوسرے ممالک کی نسبت بہتر ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور مطلوبہ اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک ایران بارڈر پر زائرین کے طبی معائنے کے لیے تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ضروری نہیں کہ کورونا وائرس چین یا ایران کے دورے سے ہی پھیلے ، انہوں نے کہا کہ کھانسی نزلے اور زکام کی شکایات پر فوری طور پر تشخیص کے لیے رجوع کیا جائے تاکہ یہ وائرس متاثرہ شخص سے دوسرے افراد کو منتقل نہ ہو۔ میڈیا عوام کو آگاہی کی فراہمی کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے کوئی وعدہ نہیں کیا، یہ بات مولانا ہی بتا سکتے ہیں کہ ان سے وعدہ کس نے کیا وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پوری دنیا میں اب پاکستان پر امن خطے کے طور پر جانا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات بجھتے چراغ کے آخری شعلے ہیں۔ صوبے کی رونقیں لوٹ آئی ہیں اور مارکٹیں آباد ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لیے صوبائی حکومتوں سے رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں ان کی ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔









