اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کی بہتری کےلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءمارکیٹ کی ملازمت کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ وہ جمعہ کو وائس چانسلرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میںجامعات کو درپیش مالی، تعلیمی …
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کاوائس چانسلرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کی بہتری کےلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءمارکیٹ کی ملازمت کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ وہ جمعہ کو وائس چانسلرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میںجامعات کو درپیش مالی، تعلیمی اور انتظامی مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وائس چانسلرز کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد علی نے کی جبکہ اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری اور سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شفقت محمود نے کہا کہ سرکاری و نجی جامعات کو درپیش مسائل کا ادراک ہے اور انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگرام کا آغاز کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے بچے بھی اعلٰی تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اس پروگرام کو گیم چینجر قرار دیا۔ انہوں نے جامعات کو ہدایت کی کہ وہ اس پروگرام کے ساتھ ساتھ اپنے فنڈز میں سے بھی سکالرشپس کا اجراءکریں، اس معاونت کے ساتھ ساتھ جامعات اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ جو طلباءتعلیمی اخراجات اٹھا سکتے ہیں وہ مکمل طور پر ادائیگی کریں اور سکالر شپس پر آنے والی لاگت میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کی بہتری کےلئے فیکلٹی کے معیار میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ نصاب تعلیم کی بہتری اورملکی ضروریات سے مطابقت کو بھی یقینی بنانا ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم تک رسائی میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ انہوں نے جامعات پر زور دیا کہ نئے کیمپس بناتے وقت اس بات خیال رکھیں کہ کہیں معیار تعلیم پر سمجھوتا تو نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے جامعات کی خودمختاری کے حوالے سے کہا کہ جامعات کو خودمختار بنانے کےلئے کام کیا جانا چاہئے تاہم ساتھ ساتھ احتساب کے عمل کو بھی فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں نظم و ضبط کو پروان چڑھایا جائے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ جامعات کو اہم مسائل جیسے جنسی ہراسگی کا سامنا ہے اور ہم تعلیمی ماحول کو خرابی کی طرف جانے نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں وائم ہراسگی کمیٹیوں کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہراسگی کے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے وائس چانسلرز کو بتایا کہ جامعات کو درپیش مالی مسائل کے پیش نظر ایچ ای سی نے حکومت سے 20 ارب روپے کی درخواست کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ نے 5ارب روپے کا اجراءکر دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ کانفرنس میں رقم کے اجراءپر حکومت کی تعریف کی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کے سدباب کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایچ ای سی نے طلباءکی حفاظت کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہوئی ہیں اور طلباءکو محفوظ رکھنے کےلئے ٹھوس اقداما کئے جانے چاہئیں۔ اپنے ابتدئی خطاب میں ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ یہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلباءکو کرونا وائرس کے خطرے سے آگاہ رکھیں اور ان میں آگہی بیدار کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسگی کے معاملات کی روک تھام کےلئے اہم اقدامات ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہراسگی کے جھوٹے کیسز کے حوالے سے بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جامعات کو اضافی فنڈز کی فراہمی پر حکومت کو سراہا۔ اس موقع پر مہرگڑھ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ملیحہ حسین نے جنسی ہراسگی اور پِمز کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نسیم اختر نے کرونا وائرس کے حوالہ سے وائس چانسلرز کو تفصیلی پریزنٹیشنز دیں۔ وائس چانسلرز نے تمام امور پر گفتگو میں بھرپور شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جامعات کی فنڈنگ، تعلیم تک رسائی اور معیار تعلیم میں بہتری، طلباءیونینز کی بحالی، ہراسگی، کرونا وائرس اور دیگر انتظامی و تعلیمی معاملات پر اپنی رائے پیش کی اور جامعات کے امور میں بے جا سیاسی مداخلت کے خاتمے پر زور دیا۔









