قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ”اے پی پی“ کی کارکردگی کی تعریف‘ اے پی پی ملازمین کے سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام شہروں میں مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کی ہدایت‘ کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ترمیمی) بل 2019ءکی منظوری دیدی

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے قومی خبر رساں ادارے ”اے پی پی“ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایات دی ہیں کہ اے پی پی ملازمین کے سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام شہروں میں مساوی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاکستان براڈ …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے قومی خبر رساں ادارے ”اے پی پی“ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایات دی ہیں کہ اے پی پی ملازمین کے سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام شہروں میں مساوی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ترمیمی) بل 2019ءکی منظوری دیدی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس رکن قومی اسمبلی ندیم عباس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران محمد اکرم چیمہ، جویریہ ظفر آہیر، ناصر خان موسیٰ زئی، مائزہ حمید، امین الحق، آفتاب جہانگیر، عثمان خان ترکئی، نفیسہ شاہ، خواجہ سعد رفیق، ذوالفقار علی، کنول شوذب اور محرک امجد علی خان کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات ظہور برلاس، ایم ڈی اے پی پی ڈاکٹر طارق محمود خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے پی پی غواث خان، شالیمار براڈ کاسٹنگ سروس کے سربراہ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے سربراہ اور وزارت اطلاعات کے سینئر افسر سہیل علی خان نے بتایا کہ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے آج تک حکومت سے کوئی گرانٹ نہیں لی، اس کا ہم سفر ایف ایم ریڈیو ہے، اس کے کل سٹاف کی تعداد 359 ہے جس میں سے263 انجینئر ہیں، ساڑھے تین کروڑ روپے کی لاگت سے ہم سفر ریڈیو 94.6 ایف ایم کے 9 سٹیشنز اپنے وسائل سے چلا رہے ہیں، ہم نے تمام آرکائیو کو ڈیجیٹل کر دیا ہے، ان ہاﺅس پروڈکشن کی استعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے 6 ماہ میں 24 کروڑ روپے مارکیٹ سے کمائے، ادارہ کے ملازمین کو نومبر سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، اس وقت کل 35 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں جبکہ 48 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بقایا جات وصول کرنے ہیں، ان میں پی ٹی وی کے ذمہ 13 کروڑ روپے ہیں۔ کمیٹی نے شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کو ہدایات دیں کہ وہ اپنی اور میڈیا چینل کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے پرائیویٹ چینل کے ساتھ مقابلہ کر سکے اور پرانے پروگرامات دوبارہ نشر کرنے کی بجائے نئے پروگرامات نشر کئے جائیں۔ قائمہ کمیٹی نے روزنامہ ایشیئن نیوز کی بندش، صحافی عزیز میمن کے قتل اور سجاد ترین کو دھمکیاں دینے کے معاملہ کی مذمت کی اور وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایات دیں کہ صحافیوں کی حفاظت کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور آئندہ اجلاس میں ان امور کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے حوالہ سے بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی ڈاکٹر طارق محمود خان نے اجلاس کو بتایا کہ اے پی پی کو 2002ءمیں کارپوریٹ ادارہ میں تبدیل کیا گیا ہے، اے پی پی ریاستی و قومی امور کی تشہیر اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتا ہے۔ ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ ادارہ کے سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھالنے کے گذشتہ 8 ماہ میں بعض اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، اے پی پی کا سالانہ درکار بجٹ ایک ارب 28 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کو ملنے والا بجٹ ایک ارب ایک کروڑ 10 لاکھ روپے ہے لہٰذا اسے تقریباً 27 کروڑ روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت کراچی اور لاہور میں سسٹم اپ گریڈ اور افرادی قوت کا اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ادارہ میں 50 فیصد ادارتی جبکہ اتنے ہی غیر ادارتی ملازمین ہیں۔ اس موقع پر کمیٹی نے اسلام آباد میں کام کرنے والے 600 ملازمین کی ملازمت کی نوعیت، ان کے ڈومیسائل اور ادارہ میں آخری بار کی جانے والی بھرتیوں کی ایک ماہ میں تفصیلات طلب کر لیں۔ ایم ڈی اے پی پی نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں اے پی پی ہیڈ کوارٹرز واقع ہونے کی بناءپر یہاں ملک بھر سے کام آتا ہے اور یہ ادارہ سے متعلقہ تمام تر پیشہ وارانہ امور کا محور بھی ہے اس لئے اسلام آباد میں زائد بھرتیاں کی گئیں، اب ہم ای فائلنگ پر جا رہے ہیں اس حوالہ سے 80 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ جون تک ہم مکمل پیپر لیس ہو جائیں گے۔ ایم ڈی اے پی پی نے کمیٹی کو بتایا کہ جدہ، انقرہ، دبئی، تہران، ماسکو، کابل، برسلز، قاہرہ اور کوالالمپور میں نئی فارن پوسٹنگ کی تجویز زیر غور ہے، اس وقت واشنگٹن اور دہلی میں ہماری آسامیاں خالی ہیں، واشنگٹن کیلئے تعیناتی زیر عمل ہے جبکہ نئی دہلی کیلئے ہمارے نمائندہ کو بھارت کی جانب سے کافی عرصہ سے ویزہ نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مختلف ممالک کی نیوز ایجنسیوں کے ساتھ خبروں کے تبادلے کے معاہدے ہیں۔ اے پی پی ملک بھر سے اپنے نمائندوں کے ذریعے روزانہ 2 ہزار تک خبریں جمع اور شائع کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ادارہ کے صحافیوں اور دیگر ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، اب تک 60 کے قریب ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے، ٹیکنالوجی، نئے بزنس ماڈل، عالمگیریت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبہ جات میں اصلاحات لانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ارب 14 لاکھ روپے سے اے پی پی ٹی وی کو وسعت دینے، نئی سروسز متعارف کرانے، ویڈیو نیوز سروس، سوشل میڈیا، گلوبل ریچ اور مارکیٹنگ کے نئے منصوبوں کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست پاکستان کے مفاد میں کام کرنے والی این جی اوز کے ساتھ مل کر بھی ہم قومی مفاد کی خبریں مختلف ممالک تک پہنچاتے ہیں، اے پی پی کا اس وقت بجٹ کا تمام انحصار سرکاری ذرائع پر ہے، اب ہم اشتہارات کی طرف جا رہے ہیں اس حوالہ سے موبائل فون کمپنیوں سمیت مختلف کارپوریٹ اداروں سے رابطہ میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ویب ٹی وی شروع کیا ہے اور کثیر تعداد میں اس کے ویورز ہیں، پیمرا سے ہماری سیٹلائٹ لائسنس کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم فارسی زبان کے علاوہ رشین زبان میں سروس شروع کرنے پر توجہ دے رہے ہیں اور اس کیلئے نمل یونیورسٹی کے طالب علموں سے بات چیت چل رہی ہے، چینی زبان میں سروس شروع کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ادارہ میں موجودہ غیر ادارتی عملہ کو ادارتی سمت لانے کیلئے اصلاحات کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ قومی خبر رساں ادارہ میں حکومتی جماعت کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی وقت دیا جائے۔ ایڈیشنل سیکرٹری ظہور برلاس نے بتایا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ساری دنیا سے چینلز کی مانیٹرنگ اور کشمیر کاز کے حوالہ سے مواد کی مناسب انداز میں تشہیر کر رہے ہیں، ہمارے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے افسران کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی پی، پی ٹی وی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی آپس میں مکمل نیوز شیئرنگ ہے، تینوں اداروں کے ریسورسز پول یکجا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ترک نیوز ایجنسی کے ساتھ خبروں کے تبادلہ کے حوالہ سے امور طے کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر کنوینئر ذیلی کمیٹی امین الحق نے پی بی سی میں اصلاحات اور صحافیوں کی تنخواہوں کے حوالہ سے ذیلی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ ذیلی کمیٹی نے پی بی سی کی اصلاحات کی مکمل حمایت کی ہے جبکہ میڈیا تنظیموں کی طرف سے حکومت پاکستان کی جانب سے اشتہارات کی مد میں میڈیا مالکان کو دی جانے والی رقم میں سے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی بھی کمیٹی نے مکمل توثیق کی ہے جبکہ اس حوالہ سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی بھی حمایت کی۔ کمیٹی نے روزنامہ ایشیئن نیوز کی بندش اور بڑی تعداد میں ورکروں کی بے روزگاری کا معاملہ آئندہ اجلاس میں زیر غور لانے اور اس کے مالک سردار تنویر الیاس کو طلب کرنے، سندھ میں صحافی عزیز میمن کے قتل کے معاملہ کو زیر بحث لانے اور سجاد ترین کو دھمکیاں دینے کا معاملہ بھی زیر بحث لانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر کمیٹی نے اے پی پی اور شالیمار براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے دورے کا بھی فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے ایم ڈی اے پی پی کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اے پی پی کراچی آفس کا دورہ کریں۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی جانب سے دی جانے والی تفصیلی بریفنگ کی تعریف کی۔