امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چین اور اٹلی سے بھی زیادہ ہو گئی اٹلی میں متاثرہ کیسز 80,589، چین میں 81,782 اور امریکہ میں 85000 ہو گئے

واشنگٹن ۔ 27 مارچ (اے پی پی) امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 85 ہزار ہو گئی ہے جو چین اور اٹلی سے بھی زیادہ ہے جہاں متاثرہ کیسز کی تعداد بالترتیب 81,782 اور 80,589 ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اس وبا سے اموات 1,300 تک پہنچ گئی ہے جو اٹلی اور چین میں اس وبا سے ہونے والی اموات …

واشنگٹن ۔ 27 مارچ (اے پی پی) امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 85 ہزار ہو گئی ہے جو چین اور اٹلی سے بھی زیادہ ہے جہاں متاثرہ کیسز کی تعداد بالترتیب 81,782 اور 80,589 ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اس وبا سے اموات 1,300 تک پہنچ گئی ہے جو اٹلی اور چین میں اس وبا سے ہونے والی اموات سے کم ہیں۔ چین جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا، میں اب تک ہونے والی اموات 3,291 اور اٹلی میں 8,215 ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف دو دن قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کا ملک کورونا وائرس کی وبا پر بہت جلد قابو پا لے گا اور 12 اپریل کو امریکہ میں ایسٹر کا تہوار بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق جب امریکی صدر سے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کرجانے کے پس منظر میں ان کے مذکورہ دعوے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ متاثرہ افراد کی بہت زیادہ تعداد بڑی تعداد میں لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی وجہ سے سامنے آئی ہے ۔ امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کی سہولت امریکہ کی50 ریاستوں میں فراہم کر دی گئی ہے اور اب تک 5 لاکھ 52 ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے چین میں متاثرہ افراد کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادو شمار کے درست ہونے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ادھر امریکہ میں سامنے آنے والے اعدادو شمار کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے نتیجہ میں 33 لاکھ امریکی شہری اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر نے کہاکہ کورونا وائرس کو شکست دینے سے ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے احتیاطی اقدامات بشمول میل جول ختم کرنے پر عملدرآمد بھی ختم ہو جائے گا۔قبل ازیں امریکی ریاستوں کے گورنرز کے نام اپنے خط میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ سماجی روابط محدود کرنے سے متعلق جلد نئی ہدایات جاری کریں گے تاہم یہ اقدام بہت بڑے پیمانے پر لوگوں کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کو لو، میڈیم اور ہائی زونز میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر زون کے لئے حفاظتی تدابیر کی ہدایات مختلف ہوں گی۔انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی ریاستوں آئیووا، نیبراسکا، اڈاہو اور ٹیکساس کے کچھ حصوں میں عائد پابندیوں میں دیگر ریاستوں سے پہلے نرمی کی جا سکتی ہے۔ ادھر یونیورسٹی آف واشنگٹن کے سکول آف میڈیسن کے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایولوایشن کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 4 ماہ کے دوران سماجی روابط کی معطلی اور دیگر احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی صورت میں بھی امریکہ میں کورونا وائرس سے اموات 80,000 تک پہنچ سکتی ہیں اور آئندہ ماہ تک متاثرہ افراد کی یومیہ اموات 2,300 تک جا سکتی ہیں۔ادھر نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ لاک ڈائون کے دوران نوجوان اور بزرگ افراد کا ساتھ رہنا اس سارے عمل کو غیر موثر کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کی 21 ریاستوں میں لاک ڈائون ہے۔ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر امریکی ریاست نیویارک میں گذشہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صحت کے شعبہ کو 6,400 ایمرجنسی کالز موصول ہوئی ہیں جو نائن الیون کے حملوں کے بعد کی جانے والے ایمرجنسی کالز سے زیادہ ہیں۔