وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ جاری کرنے، اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کے فیصلہ کی توثیق، مسابقتی کمیشن کی تنظیم نو اور اس کی ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں سے متعلق یکساں پالیسی کے حوالہ سے فیصلہ کی توثیق، اقلیتوں کے …

اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ جاری کرنے، اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کے فیصلہ کی توثیق، مسابقتی کمیشن کی تنظیم نو اور اس کی ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں سے متعلق یکساں پالیسی کے حوالہ سے فیصلہ کی توثیق، اقلیتوں کے بارے میں قومی کمیشن کی تنظیم نو اور کابینہ کی توانائی کمیٹی کی سفارشات کو منظور کر لیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے ایپلٹ ٹربیونلز کی آسامیاں ایک ہفتہ میں پُر کرنے کی ہدایت کی ہے، کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دوست ممالک کو کلوروکین کی 30 ملین گولیاں برآمد کرنے کی منظوری دی گئی، وزیراعظم نے واضح کہا کہ کورونا کے ساتھ ساتھ ہمیں کرپشن کے وائرس سے بھی لڑنا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، نجی پاور پلانٹس کے معاہدے گزشتہ ادوار میں ہوئے، ہمارے دور میں اس حوالہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 8 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی ہے، وفاقی کابینہ نے اوگرا آرڈیننس میں ترامیم کے فیصلہ کی توثیق کی، مسابقتی کمیشن کی تنظیم نو اور اصلاحات حکومت کی اہم ترجیح ہے، مسابقتی کمیشن کے حوالہ سے سفارشات کابینہ اجلاس میں پیش کی گئیں، وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا کہ عوام کو کسی کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے، وزیراعظم نے کہا کہ مسابقتی کمیشن کو مضبوط ادارہ بنایا جائے گا، مسابقتی کمیشن میں افراد یا اداروں کے مفادات کا تحفظ کرنے والوں کو ہٹایا جائے گا، مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے لیکن انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی لے لیا ہے، ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی کو مسابقی کمیشن میں اصلاحات اور تشکیل نو کی ذمہ داری دی گئی تھی، ان کی سفارشات کی روشنی میں مسابقتی کمیشن کی تنظیم نو اور اس کی ڈیجیٹلائزیشن کی منظوری دی گئی، اس ادارہ کے خلاف 27 کیسز مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ ادارہ نے مختلف شوگر ملز اور فلور ملز سمیت دیگر اداروں سے 27 ارب روپے لینے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایپلٹ ٹربیونلز کی آسامیاں ایک ہفتہ میں پُر کرنے کی ہدایت کی ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں اس ٹربیونل کو مکمل کرکے وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی سرکاری رہائش گاہوں سے متعلق یکساں پالیسی کے حوالہ سے فیصلہ کی توثیق کی، پالیسی کے مطابق اب ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین 6 ماہ سے زائد سرکاری رہائش گاہ رکھنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اقلیتوں کے بارے میں قومی کمیشن کی تنظیم نو کی منظوری دی، قومی کمیشن میں اقلیتوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے گی، آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے، ملکی ترقی میں اقلیتی برادری کا اہم کردار ہے، اقلیتیوں کے بارے میں قومی کمیشن میں غیر سرکاری ممبران میں دو مسلمان، دو ہندو، تین عیسائی، ایک سکھ، ایک پارسی اور ایک کیلاش کا نمائندہ شامل ہو گا، پہلے کمیشن کا چیئرمین وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ہوتا تھا تاہم اب اس میں ترمیم کر دی گئی ہے اور اس کمیشن کا چیئرمین اب اقلیتی برادری سے ہو گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کے حوالہ سے حکومت نے اہم اقدامات کئے ہیں، تعمیراتی صنعت کے ساتھ 40 سے زائد شعبے منسلک ہیں، اس شعبہ کی بہتری سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، تعمیراتی شعبہ سے متعلق آئی سی ٹی آرڈیننس میں ترمیم کی گئی ہے اور 5 فیصد ٹیکس ختم کرکے صفر کر دیا گیا ہے، اسی طرح نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے تحت کم لاگت گھروں پر بھی 5 فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، اس قانون سازی میں تعمیراتی شعبہ سے وابستہ مزدوروں، سرمایہ کاروں سمیت تمام افراد کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، تعمیراتی شعبہ کو سرکاری سرپرستی دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ شعبہ چلے گا تو غریب کا چولہا جلے گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پہلے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے بھی سربراہ تھے تاہم کابینہ نے اب اس کمیٹی کی سربراہی مشیر خزانہ کو سونپنے کی منظوری دی ہے، مشیر خزانہ حکومت اور اداروں سے متعلق پالیسی سازی تشکیل دیں گے اور حتمی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ میں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کی توانائی کمیٹی کی سفارشات بھی اجلاس میں پیش کی گئیں جن کو منظور کر لیا گیا، وزیر توانائی 2 ہفتے میں ری سٹرکچرنگ اور اصلاحات کا منصوبہ پیش کریں گے، بجلی چوری اور لائن لاسز روکنے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے آئیسکو اور پیسکو کی نجکاری کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دنیا بھر میں کلوروکین کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، مختلف دوست ممالک نے پاکستان سے کلوروکین درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، ان میں ایسے دوست ممالک بھی ہیں جنہوں نے ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے اور اب مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ ہیں، ملک میں ضرورت سے زائد کلوروکین کی گولیاں موجود ہیں، 15 ملین کلوروکین کی گولیاں ہماری تین ماہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں اور اس وقت ہمارے پاس 40 ملین گولیاں اور 40 ملین گولیوں کا خام مال موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو 10 لاکھ کلوروکین کی گولیاں دی جائیں گی، ترکی کو 5 لاکھ، اٹلی کو 5 لاکھ، امریکہ کو ایک ملین اور دوسرے ملکوں کو بھی کلوروکین فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش ہوئی، کابینہ نے یہ رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، شفاف طرز حکومت تحریک انصاف کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کہا کہ کورونا کے ساتھ ہمیں کرپشن کے وائرس سے بھی لڑنا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں، نجی پاور پلانٹس کے معاہدے گزشتہ ادوار میں ہوئے، ہمارے دور میں اس حوالہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا، شہباز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے اپنے بیٹے کی چونیاں پاور پلانٹ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے بلانے پر شہباز شریف سیاسی طور پر متحرک ہو گئے ہیں، نیب میں جوابدہی کی بجائے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کچھ سیاستدان خود ساختہ قرنطینہ چھوڑ کر حکومت پر تنقید کر رہے ہیں، وہ کورونا کو ہدف بنائیں اور اس کی روک تھام کے حوالہ سے تجاویز سامنے لائیں، وہ عوام کے ریلیف کی بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس کے حوالہ سے تنقید بلاجواز ہے، ٹائیگر فورس میں نوجوان رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں، انہیں ایک پیسہ بھی نہیں دیا جا رہا، ان کی صلاحیتیں ملک و قوم کی بہتری کیلئے بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔