اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے نام پر بے شمار جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، ان کمپنیوں کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، ان کی پارٹی کے مختلف سیاسی رہنماﺅں اور بلڈرز نے کروڑوں روپے ان جعلی کمپنیوں کے اکاﺅنٹس میں منتقل کئے، شہباز شریف اب لندن …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرکی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے نام پر بے شمار جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، ان کمپنیوں کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، ان کی پارٹی کے مختلف سیاسی رہنماﺅں اور بلڈرز نے کروڑوں روپے ان جعلی کمپنیوں کے اکاﺅنٹس میں منتقل کئے، شہباز شریف اب لندن بھاگنے کی بجائے عدالتوں کا سامنا کریں اور میرے 10 سوالوں کا جواب دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف 10 سال تک متواتر پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے، وزارت اعلیٰ کے دوران ان کے کاروباری اثاثہ جات (شوگر ملوں، پاور پلانٹ، ڈیری، ایگری فارم اور پولٹری) میں ہوشربا اضافہ پر نیب تحقیقات کر رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ہی یہ بات سامنے آ گئی تھی کہ انہوں نے 2008ءمیں اقتدار میں آنے کے بعد فوراً برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے اپنے اہلخانہ کے اکاﺅنٹ میں تقریباً 3 ارب روپے جعلی ٹی ٹی لگوا کر منتقل کئے۔ یہ جعلی ٹی ٹی جن عام پاکستانیوں کے نام سے لگوائیں ان میں سے بیشتر انتہائی غریب ہیں اور کبھی بیرون ملک جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، جیسا کہ منظور احمد پاپڑ والا سکنہ پنڈ دادنخان، جہلم کے نام پر 1.5 ملین ڈالر آپ کے صاحبزادوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں بذریعہ ٹی ٹی منتقل کئے گئے۔ محبوب علی (ہاکر) سکنہ بھیرہ، سرگودہا کے نام پر ایک ملین ڈالر آپ کے صاحبزادوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں بذریعہ ٹی ٹی منتقل کئے گئے۔ رمیض شاہد سیلز مین سکنہ سولجر بازار، کراچی کے نام پر 5 لاکھ ڈالر آپ کے صاحبزادوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں بذریعہ ٹی ٹی منتقل کئے گئے ۔ محمد رفیق سیلز مین (مرحوم) سکنہ کوٹلی پیر عبدالرحمن، لاہور کینٹ کے نام پر 3.5 لاکھ ڈالر آپ کے صاحبزادوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں بذریعہ ٹی ٹی منتقل کئے گئے اور نیئر شیخ (بکی) سکنہ گلبرگ ٹو، لاہور کے نام پر 3 لاکھ ڈالر آپ کے صاحبزادوں کے ذاتی اکاﺅنٹ میں بذریعہ ٹی ٹی منتقل کئے گئے۔ یہ فہرست کافی طویل ہے۔ مختصراً یہ کہ بینک اکاﺅنٹس کے ڈیکلیئریشن فارم برائے فارن ریمیٹینس میں شہباز شریف خاندان نے یہ ظاہر کیا کہ ان کے رشتہ دار اور دوست بیرون ملک سے سرمایہ کاری کیلئے ان کو لاکھوں ڈالر بھجوا رہے ہیں۔ دراصل یہ اپنا ہی کالا دھن ہنڈی حوالہ کے ذریعے بیرون ملک بھجواتے ہیں اور پھر اس کو جعلی ٹی ٹی کے ذریعے اپنے بینک اکاﺅنٹ میں منتقل کر لیتے ہیں اور اس سے ایک نیا کاروبار قائم کر لیتے۔ اسی لئے میاں محمد شہباز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے آج تک یہ بتانے سے قاصر ہیں منظور احمد پاپڑ والا اور محبوب علی (ہاکر) کون ہیں اور ان سے کیا رشتہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ جعلی ٹی ٹی کے علاوہ شہباز شریف خاندان کے کاروبار میں ترویج کیلئے ان کی قائم کردہ کاغذی/فرنٹ کمپنیوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ جی این سی نامی ایک کاغذی/فرنٹ کمپنی کو میاں شہبا شریف کے فرنٹ مین چلاتے تھے۔ نثار احمد گل اور علی احمد خان نامی فرنٹ مین سلیمان شہباز شریف کے قریبی دوست تھے اور اسی قابلیت کی بناءپر ان کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر 8 کلب روڈ میں ڈائریکٹر (پالیسی) اور ڈائریکٹر (پولیٹیکل) کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ جی این سی اور وقار ٹریڈنگ کمپنی (سیّد محمد طاہر نقوی) کے ذریعے کالا دھن سفید کرنے کی تفصیلات سابقہ رپورٹ میں سامنے آ چکی ہیں۔ سابقہ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ منڈی لانڈرنگ سے حاصل شدہ رقوم سے نہ صرف وسیع و عریض کاروبار قائم کئے گئے بلکہ اس ”آمدنی“ سے 96-H ماڈل ٹاﺅن میں 10 کنال پر محیط شاندار بنگلہ (جس کو وزیراعلیٰ کیمپ آفس کا درجہ حاصل تھا) تعمیر کیا گیا۔ اکثر امور حکومت اسی بنگلے سے چلائے جاتے تھے۔ یہ بنگلہ بیگم نصرت شہباز کے نام پر تعمیر کیا گیا۔ اس کے علاوہ بیگم تہمینہ درانی شریف کے نام پر وسپرنگ پائن، اسلام آباد میں ولاز بھی انہی منی لانڈرنگ کی رقوم سے خریدے گئے۔ حالیہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نہ صرف شہباز شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے نام پر بے شمار کاغذی/جعلی کمپنیاں (فرنٹ کمپنیاں) بنائی ہوئی تھیں اور ان کمپنیوں کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ حالیہ تحقیقات کے نتیجہ میں ان 10 فرنٹ کمپنیوں کا انکشاف ہوا۔ شریف فیلڈ مل کے ملازم ارشد کرامت مسیح کے نام پر قائم کی گئی نثار ٹریڈنگ کمپنی جس میں 425 ملین روپے منتقل کئے گئے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کر لئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم شکیل احمد خان کے والد گلزار احمد خان کے نام پر قائم کی گئی خان ٹریڈنگ کمپنی جس میں 450 ملین روپے منتقل کئے گئے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کر لئے گئے۔ چنیوٹ پاور لمیٹڈ کے ملازم خضر حیات نذر کے نام پر قائم کی گئی حیات ٹریڈبگ کمپنی جس میں 1140 ملین روپے منتقل کئے گئے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم توقیر الدین اسلم کے نام پر قائم کی گئی فائن اور نیوسوپر جنرل ٹریڈنگ کمپنی اور ٹی اے ٹریڈرز کمپنی جس میں 475 ملین روپے منتقل کئے گئے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ شہباز شریف گروپ ہیڈ آفس واقع 55-K ماڈل ٹاﺅن کے چپڑاسی ملک مقصود احمد کے نام پر قائم کی گئی مقصود اینڈ کمپنی میں 1500 ملین روپے منتقل کئے گئے اور بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم اظہر عباس کے نام پر بے نامی بینک اکاﺅنٹ کھلوائے گئے اور اس میں 350 ملین روپے منتقل کئے گئے جو بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم محمد انور کے نام پر بے نامی بینک اکاﺅنٹ کھلوائے گئے اور اس میں 880 ملین روپے منتقل ہوئے جو بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم غلام شبیر کے نام پر بے نامی بینک اکاﺅنٹ کھلوائے گئے اور اس میں560 ملین روپے منتقل ہوئے جو بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ رمضان شوگر مل کے ملازم تنویر الحق کے نام پر بے نامی بینک اکاﺅنٹ کھلوائے گئے اور اس میں 210 ملین روپے منتقل ہوئے جو بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ چنیوٹ پاور لمیٹڈ کے ملازم قرار حسین کے نام پر بے نامی بینک اکاﺅنٹ کھلوائے گئے اور اس میں 640 ملین روپے منتقل ہوئے جو بعد ازاں حسب ضرورت نکلوا کر استعمال کئے گئے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ حالیہ تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ نہ صرف شہباز شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے نام پر جو کاغذی/جعلی کمپنیاں (فرنٹ کمپنیاں) بنائی ہوئی تھیں اور ان کمپنیوں کو کک بیک/کمیشن کی رقوم وصول کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ جب نیب اور مالیاتی اداروں/بینکوں نے نثار ٹریڈنگ کمپنی اور خان ٹریڈنگ کمپنی کے بینک اکاﺅنٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو ایسے ٹھوس شواہد سامنے آئے کہ ان فرنٹ کمپنیوں میں رقوم کسی چینی، فیڈ، ڈیری پولٹری کے کاروبار سے نہیں بلکہ کک بیک/کمیشن کی رقوم سے آ رہی تھیں۔ جو کمیشن چیک کی صورت میں موصول ہوتا اس کو ان فرنٹ کمپنیوں کے بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرا دیا جاتا۔ بعد ازاں حسب ضرورت ان اکاﺅنٹ سے رقوم نکال کر نقد استعمال کر لی جاتیں۔ ٹی ٹی لگوانے کے کام آتیں یا پھر کیش رقوم نکلوا کر میاں محمد شہباز شریف اور میاں محمد حمزہ شہباز کے ذاتی بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرا دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کک بیک/کمیشن کے چیک فرنٹ کمپنیوں میں جمع کرانے کیلئے ذمہ داری ہمیشہ شریف خاندان کے انتہائی قابل اعتماد کیش بوائے مسرور انور اور شعیب قمر کو تفویض کی جاتی تاکہ رازداری رہے۔ یہی دونوں ملازم ٹی ٹی لگوانے کیلئے نقد رقوم لاہور منی چینجرز کو بھجواتے اور یہی قابل بھروسہ ملازم کیش رقم نکلوا کر میاں محمد شہباز شریف اور میاں محمد حمزہ شہباز کے ذاتی بینک اکاﺅنٹس میں جمع کرا دیتے۔ جن مختلف بلڈرز، سرکاری ٹھیکیداروں اور سیاسی کارکنوں سے مختلف مدوں میں کک بیک/کمیشن کی رقم بذریعہ چیک وصول کرکے نثار ٹریڈنگ کمپنی اور خان ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئیں ان میں سے چند کی تفصیل درج ذیل ہے۔ غوری ٹاﺅن اسلام آباد کے بلڈرز راجہ علی اکبر اور ارشد محمود کی طرف سے 2013ءمیں 45 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ علینہ سنٹر گجرات کے بلڈر اورنگزیب بٹ کی طرف سے 2012ءمیں 15 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی اور پھر ان کو گجرات کی تزئین و آرائس کمیٹی کا چیئرمین لگا دیا گیا۔ الرحمن گارڈن شیخوپورہ کے بلڈر محمد مشتاق کی طرف سے 2013ءمیں 11 ملین روپے، الجلیل ڈویلپر لاہور کے نصر اﷲ خان کی طرف سے 2015ءمیں 2 ملین روپے، آصف اسٹیٹ ڈیفنس لاہور کی طرف سے 2011ءمیں 4 ملین روپے اور سیف ڈویلپر لاہور کے سیف الملوک کھوکھر کی طرف سے 2014ءمیں 10 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ نواب بلڈرز لاہور کی طرف سے 2010ءمیں 2 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوابزادہ طاہر الملک کی طرف سے 2014ءمیں 15 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی۔ اس کے بعد نوابزادہ طاہر الملک کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر برائے بیت المال مقرر کر لیا گیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چوہدری ہارون قیصر کی طرف سے 2010ءمیں 10 ملین روپے، پاکستان مسلم لیگ (ن) اسلام آباد کے ہارون ارشد شیخ کی طرف سے 2014ءمیں 10 ملین روپے، پاکستان مسلم لیگ (ن) خوشاب کے ملک عامر مختار سانگھا کی طرف سے 2014ءمیں 2.5 ملین روپے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپورٹر محمد افتخار بٹ کی طرف سے 2014ءمیں ایک ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاجر ونگ کے عرفان اقبال شیخ کی طرف سے 2014ءمیں 5 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ اس کے بعد ان کو پنجاب سرمایہ کاری بورڈ میں اعزازی ڈائریکٹر کا عہدہ دےدیا گیا۔ سرکاری ٹھیکیدار اور روبی سٹیل کارپوریشن کے مالک قیصر لطیف کی جانب سے مختلف چیکس کے ذریعے 2016ءمیں 51 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ سرکاری ٹھیکیدار اور خوشاب انجینئرنگ کے مالک خالد محمود کھرل کی جانب سے مختلف چیکس کے ذریعے 2016ءمیں 31 ملین روپے، پنجاب ولاز اور کنال سٹی سیالکوٹ کے ڈویلپر کی طرف سے 2013ءمیں 10 ملین روپے، بھٹی فارمز لاہور کے ایجنٹ شوکت علی کی طرف سے 2015ءمیں 5 ملین روپے، صادق کنسٹرکشن سرگودہا کے بلال خان کی طرف سے 2018ءمیں 2.5 ملین روپے، ساحر ایسوسی ایٹ ڈی ایچ اے لاہور کے سلیم علی کی طرف سے 2013ءمیں 10 ملین روپے اور وژن ڈویلپر اور سنے سٹار سینما لاہور کے مالک فراز احمد چوہدری کی طرف سے 2014ءمیں 4 ملین روپے کی رقم بذریعہ چیک نثار ٹریڈنگ کمپنی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انمنٹ شواہد سامنے آئے ہیں کہ فرنٹ کمپنیوں میں کمیشن/کک بیک کے چیک جمع کرانے والے شریف خاندان کے قابل اعتماد کیش بوائے مسرور انور میاں محمد شہباز شریف اور میاں حمزہ شہباز شریف کے ذاتی بینک اکاﺅنٹ میں بھی نقد رقم جمع کراتے رہے اور میاں محمد شہباز شریف اور میاں محمد حمزہ شہباز شریف ان نقد رقوم سے مستفید ہوتے رہے۔ میاں محمد شہباز شریف کے ذاتی اکاﺅنٹ میں مسرور انور نے 164 ملین روپے نقد جمع کرائے۔ منی لانڈرنگ سے وابستہ جرائم پیشہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ بھاری نقد رقوم کی ترسیل اس لئے کی جاتی ہے تاکہ اصل منی ٹریل (اصل ذرائع آمدن) کو مخفی رکھا جا سکے تاہم نیب اور متعلقہ محکموں کے افسران کی بے باک اور انتھک محنت نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔







