اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی آن لائن نعتہ مشاعرہ ان دنوں اللہ اور حضرت محمد سے محبت اورعقیدت کا باعث ہے، اللہ پاک نبی کریم کے صدقے میں ہماری مشکلات کو آسان فرمائے اور ہماری قوم اور پوری دنیا کو کرونا سے بچائے۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن عالمی نعتیہ مشاعرہ میں …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن عالمی نعتیہ مشاعرہ میں پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی آن لائن نعتہ مشاعرہ ان دنوں اللہ اور حضرت محمد سے محبت اورعقیدت کا باعث ہے، اللہ پاک نبی کریم کے صدقے میں ہماری مشکلات کو آسان فرمائے اور ہماری قوم اور پوری دنیا کو کرونا سے بچائے۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن عالمی نعتیہ مشاعرہ میں مہمان خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے پیغام کے ذریعہ کیا۔ عالمی نعتیہ مشاعرہ کی صدارت فیصل آباد سے ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ مہمانان اعزاز ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر تحسین فرقی، صبیح رحمانی اور پروفیسر جلیل عالی تھے۔ چیئرمین اکادمی ڈاکٹریوسف خشک نے ابتدایہ پیش کیا۔ محبوب ظفر نے نظامت کی۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہم سب مسلمانوں کو زیادہ عزیز ہے، اللہ کے حبیب کا مہینہ ہے اور نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ مسلمانوں کے دل اس مہینے میں خاص طور پر عبادات و اذکار کی طرف راغب ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹتے ہیں۔ نعت گوئی کا عمل ہمارا مذہبی مظہر بھی ہے اور تہذیبی پہچان بھی۔ حبِ رسول نہ صرف ہمارا دینی تقاضا ہے بلکہ ہماری تہذیبی اور ثقافتی اقدار میں بھی شامل ہے۔ نعتیہ محفل نہ صرف اہل پاکستان اوردنیا بھر سے آن لائن شامل ہونے والے شعراءاور ناظرین کے مذہبی اور روحانی جذبات کی سیرابی کا سامان ہے بلکہ اس تقریب کی ادبی جہت بھی قابل ستائش و تحسین ہے جس کے ذریعے شعرائے کرام کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اظہار کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے گذشتہ چند ہفتوں میں آن لائن پروگراموں میں سماجی فاصلے کے اصول کو نظرانداز کیے بغیر جس طرح پروگراموں کو جاری رکھا ہے، اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر یہ سرگرمیاں اور بھی زیادہ توانائی اور ولولے کے ساتھ جاری و ساری رہیں گی۔ ڈاکٹر ریاض مجید نے کہا کہ با بائے ا±ردو کی تصنیف، ا±ردو کی بتدائی نشوونما میں صو فیا ئے کرا م کا حصہ سے، قدیم دکنی مثنویوں کے آغاز کے نعتیہ اشعار سے، عہدِ حاضر کی طویل یک کتابی نعتوں تک ا±ردو شاعری کی تخلیقی کوششوں کی ایک تاریخ ہے جس نے نعتیہ روا یت کی آبیا ری کی ہے جیسے جیسے ا±ردو زبان ا±ردو شاعری پروان چڑھی ہے ویسے ویسے اس میں سیرتِ رسول کے بیان اور آنحضرت سے عقیدت و محبت کے اظہار کے نمو نے نظر آتے ہیں۔ یہ نمونے ایک روایت کے طور پر ہر دور، دبستان، علاقے کی ا±ردو شاعری میں کم و بیش موجود ہیں جب کو ئی با کما ل شا عر ادھر متو جہ ہو اہے تو اس نے اس روایت کو اپنی فنی مہارت سے رجحان ساز اور ثروت مند کیاہے، شاعروں نے کثرت کے سا تھ غزل ہی کے اسلوب اور پیرائے میں نعت کہی اور مسلسل کہہ رہے ہیں۔ ا±ردو شاعری کی روایت ہی کے آئینے میں ا±ردو نعت کی بھی روا یت جلوہ گرہوتی ہے۔ چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ نعت شاید دنیا کی وہ واحد صنف ہے، جو دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں لکھی گئی ہے۔ دنیا کی ہر وہ زبان، جسے مسلمان بولتے اور سمجھتے ہیں، خواہ ان کی تعداد بہت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، اس زبان میں نعت موجود ہے۔ اس کی وجہ مدحت رسول ہرمسلمان کا جزو ایمان ہے۔ دیگراصناف کی طرح نعت بھی پاکستانی زبانوں میں عربی اور فارسی ہی کے توسط سے آئی۔ پاکستان کی شاید ہی کوئی ایسی زبان ہو جس میں نعت نہ لکھی گئی ہو، یہاں تک کہ ان زبانوں میں بھی جن میں باقاعدہ تحریری ادب موجود نہیں وہاں بھی نعت فوک شاعری کی صورت میں موجود ہے۔ ہماری قومی زبان اردو میں نعت گوئی کا آغاز اردو شاعری کے آغاز کے ساتھ ہی ہوگیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ صرف مسلم شعرا پر ہی موقوف نہیں بے شمار غیر مسلم شعرا نے بھی حضور کی خدمت اقدس میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں۔ ویڈیو لنک کے ذریعہ اسلام آباد اور راولپنڈی الیاس بابر اعوان، پروین طاہر، تبسم اخلاق، پروفیسرجلیل عالی، جنید آذر، حسن عباس رضا، شازیہ اکبر، عائشہ مسعود ملک، نسیم سحر، لاہور سے آسناتھ کنول، ڈاکٹرتحسین فراقی، ڈاکٹر حمیدہ شاہین، ڈاکٹر خورشید رضوی، عنبریں صلاح الدین، ڈاکٹرفخر الحق نوری، یاسمین حمید، ڈیرہ غازی خان سے ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ، سرگودھا سے ڈاکٹر خالد ندیم، ڈاکٹر فرح شاہ، ڈاکٹر ہارون رشید، فیصل آباد سے شہزاد بیگ، سندھ سے علی گل میرانی، کراچی سے آفتاب مضطر، صبیح رحمانی، روہڑی سے اختر درگاہی، خیرپور سے حسن شیخ، پشاور سے صغیر اسلم، عزیز اعجاز، ناصر علی سید، ایبٹ آباد سے احمد حسین مجاہد، اٹک سے مشتاق عاجز، کوئٹہ سے سرور جاوید، محسن شکیل، گلگت بلتستان سے احسان شاہ، مظفرآباد سے احمد عطا اللہ، اعجاز نعمانی، امریکہ سے نورین طلعت عروبہ، مدینہ منورہ سے ڈاکٹر خالد عباس الاسعدی نے کلام پیش کیا۔







