پاکستان میں متعین امریکی سفیرپال ڈبلیو جونز کا ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پالیسی مکالمے کے موقع پر گفتگو

اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) پاکستان میں متعین امریکی سفیرپال ڈبلیو جونز نے کہا ہے کہ خطہ کے ایک اہم ملک کے طور پر پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، امریکہ کوویڈ۔19کے دوران دونوں ممالک اور ان کے عوام کے باہمی مفاد میں پاکستان کے ساتھ انسانی، سیاسی اور تجارتی تعاون وسیع کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔ اس امر کا …

اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) پاکستان میں متعین امریکی سفیرپال ڈبلیو جونز نے کہا ہے کہ خطہ کے ایک اہم ملک کے طور پر پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، امریکہ کوویڈ۔19کے دوران دونوں ممالک اور ان کے عوام کے باہمی مفاد میں پاکستان کے ساتھ انسانی، سیاسی اور تجارتی تعاون وسیع کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ”کوویڈ۔19 کے دوران پاک امریکہ تعاون“ کے زیر عنوان پالیسی مکالمے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو سخت متاثر کیا ہے اور بدستور بڑی تعداد میں لوگ اس کی زد میں آرہے ہیں۔ پاکستان بھی وباءکے نتیجہ میں شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، امریکہ وائرس کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا خواہاں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے قبل ازیں امریکہ اور پاکستان میں کورونا وباءکے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال کے یکساں پہلوو¿ں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے معیشت اور صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کےلئے مناسب حکمت عملی اور پالیسیاں اختیار کیں۔ انہوں نے امریکی سفیر کے سامنے کئی سوالات رکھے جن میں کورونا وائرس وبا کے دوران پاک۔امریکہ تعاون، پاکستان کے قرضے ری شیڈول کرنے کے حوالے سے ممکنہ امریکی تعاون اور کوویڈ کے افغانستان میں قیام کے عمل پر اثرات شامل تھے۔ پال ڈبلیو جونز نے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وبا کے پھوٹنے کے بعد سے امریکہ پاکستانی قیادت کے ساتھ قریبی رابطہ استوار رکھے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان سے گفتگو کی ہے اور وباءکے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات میں اضافہ کا عمل موجودہ صورتحال میں مستحکم ہونا چاہئے۔ انہوں نے قرضے ری شیڈول کرنے سے متعلق امریکی حمایت پر بھی گفتگو کی تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کےلئے قرضوں کی وسعت اور مالی معاونت بھی حمایت کی ہے جس میں آئی ایم ایف کی طرف سے 1.4 ارب امریکی ڈالراور ورلڈ بینک اور دوسرے مالیاتی اداروں کی طرف سے تعاون بھی شامل ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ ہم نے اب پاکستان کے ساتھ صحت کے شعبہ میں طویل مدتی بنیاد وں پر شراکت کا آغاز کیا ہے اور تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ وباءکے ضمن میں امریکہ کی طرف سے صحت کے شعبہ میں شراکت داری میں پاکستان ترجیح ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست موصول ہونے کے 48گھنٹوں کے اندر امریکہ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دوسرے حکومتی اداروں کو تعاون کی فراہمی کےلئے موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں ٹیسٹ شروع کرنے کےلئے پاکستان کےلئے لاکھوں ڈالر کی نئی مالی معاونت مہیا کر رہا ہے۔ اسی طرح صحت کے حوالے سے امریکی معاونت فنی تربیت اور امداد پر مشتمل ہے اور ہم ملک کے صوبوں میں صحت کے ہنگامی مراکز میں بہتری کے لیے معاونت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے سب سے عمدہ پہلو یہ ہے کہ امریکی تعاون صرف حکومت سے حکومت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں کام کر رہی امریکہ کی نجی کمپنیاں بھی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی مد میں بڑی رقوم کم آمدنی والے خاندانوں کی انسانی بنیادوں پر معاونت کےلئے خرچ کر رہی ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں افغان مہاجرین اور ان کی میزبان مقامی آبادیوں کو امداد بہم پہنچا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کو کسی پر امن حل کی طرف لے جانا ہمارے باہمی مفاد میں ہے اور ہم اس ضمن میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی اختلافات طے ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح قیدیوں کی رہائی اور تشدد میں کمی کے حوالے سے مزید پیشرفت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکل آنے کی صورت میں ہم خطہ میں خوشحالی اور معاشی ترقی کی امید کر سکتے ہیں۔ پال ڈبلیو جونز نے کہا ہمارے مستحکم تعلقات دونوں ممالک کے عوام کےلئے اہم ہیں اور کورونا وائرس نے تعاون کی نئی جہتیں کھولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومتی، سول سوسائٹی اور کاروباری وسائل کو یکجا کرنا چاہئے تاکہ دونوں ممالک اور ان کے عوام میں تعاون میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم تجارت اوع معیشت کے شعبہ میں اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں۔