اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) سینیٹ میں قائد ایوان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے اور غریب افراد کی امداد کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی ہے' اپوزیشن اس معاملے پر سیاست نہ کرے' ایسی بحث میں نہیں پڑنا چاہیے جس سے معاشرہ تقسیم ہو' اپوزیشن چاہتی …
وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے اور غریب افراد کی امداد کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی ، محدود وسائل اور مجبوریوں کے باوجود وزیراعظم نے وباء شروع ہوتے ہی 1.2 کھرب روپے کا پیکیج دیا، قائد ایوان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) سینیٹ میں قائد ایوان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے اور غریب افراد کی امداد کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی ہے’ اپوزیشن اس معاملے پر سیاست نہ کرے’ ایسی بحث میں نہیں پڑنا چاہیے جس سے معاشرہ تقسیم ہو’ اپوزیشن چاہتی ہے کہ معیشت دیوالیہ ہو جائے اور انہیں این آر او مل جائے’ عمران خان کی حمایت کریں یا نہ کریں عوام کی تو داد رسی کریں’ احساس پروگرام کے تحت 100 ارب روپے سے زائد غریب طبقے میں تقسیم کئے جاچکے ہیں’ سندھ میں 31 ارب روپے سے زائد دیئے گئے ہیں’ ملک میں ڈیزل کی کوئی قلت نہیں’ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لئے بھی حکومت نے بڑا پیکج دیا ہے’ عوام کورونا وائرس سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں’ ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ کی جائے’ غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا تو انجام اچھا نہیں ہوگا’ اپوزیشن کی کوڈ 19 پر کیا حکمت عملی ہے؟ کیا اپوزیشن چاہتی ہے کہ پورے ملک میں کرفیو نافذ کر دیا جائے؟ کیا حکومت پورے ملک میں مساجد کو بند کر دے؟ اپوزیشن کی رائے میں جب تک کورونا کی ویکسین نہیں بنتی تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اگر اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اجلاس طلب کیے ہیں تو اپوزیشن آج کہاں ہے؟ ۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ان ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل سٹاف، سکیورٹی فورسز، فلاحی تنظیموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس وباء سے نبرد آزما ہونے کیلئے کار فرما ہیں۔ "ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دو۔میں نہیں تو کوئی تو ساحل سے اتر جائے گا” یہ جذبہ ایثار رکھنے والے ہماری کمیونٹی میں فرنٹ لائن کے لوگ ہیں، ان کی قربانیوں کو میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے سلام پیش کرتا ہوں، ان کی یہ قربانی ہمیشہ اس ملک کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی، اس پوری وباء کا انٹرنیشنل تناظر ہے، یہ کسی مقامی علاقے کی نہیں، یہ پاکستان کا نہیں یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے ملک ہیں جہاں کورونا وائرس کی وبا سے بڑی تباہی ہوئی۔ امریکہ کی مثال لے لیں، اس کی 21 ارب ڈالر سے زیادہ کی جی ڈی پی ہے، ان کی اموات ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں، اسی طرح یورپ میں برطانیہ کی جی ڈی پی تین کھرب پائونڈ سے زیادہ ہے ان کے کیسز کی تعداد دو لاکھ تین ہزار اور اموات 33 ہزار ہیں، اٹلی میں 2 لاکھ سے زائد کنفرم کیسز اور اموات31 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی جی ڈی پی 300 ارب ڈالر ہے، ہمارے کیسز 30 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں، اموات ایک ہزار سے کم ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ اب اس میں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ باوجود قرضوں میں ڈوبا ہوا ایک ایسا ملک جس کا کوئی ہیلتھ انفراسٹرکچر تقریباً ناپید تھا، ان ممالک کے مقابلے جن کے پاس دنیا کا بہترین ہیلتھ کیئر سسٹم ہے اور وہ اس وباء سے نبرد آزما نہیں ہو سکے، ہمارے کیسز بہت کم ہیں۔ ہمیں اس پر خوشی نہیں ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اموات زیادہ ہوں، پوری انسانیت اﷲ کی مخلوق ہے، کوئی کسی سے بہتر نہیں ہے، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ہم اپنی بے سروسامانیوں کو دیکھتے ہیں، جب ہم اپنی غربت کو دیکھتے ہیں، جب ہم اپنے ملک کے 25 فیصد سے زائد غریب افراد کو دیکھتے ہیں، ہمارے پاس بہت سے مسائل ہیں، ہم ان کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت نے بہترین حکمت عملی اختیار کی۔ کسی بھی پالیسی کا انڈر لائن پوائنٹ ہوتا ہے کہ ہم اپنے محدود وسائل میں کس طرح اور کس پر سب سے زیادہ توجہ دیں، سب سے پہلے توجہ کے مستحق کون ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، دیہاڑی دار، چھوٹی دکان والے، چھابڑی والے، رکشہ چلانے والے مستحق ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی دن کی کمائی سے اپنے گھر میں رات کا کھانا اپنے اور اپنے بچوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان جو ہمیشہ فلاحی سوچ رکھتے ہیں۔ حکومت کی حکمت عملی تھی کہ کس طرح اس وباء سے نمٹا جائے اور جن لوگوں کا کاروبار بند ہے کس طرح انہیں سب سے پہلے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے ایک بڑا معاشی پیکیج دیا۔ میرے اپوزیشن کے دوست اور پورا پاکستان جانتا ہے کہ ہمارے مالی حالات کیسے ہیں، ان محدود وسائل اور مجبوریوں کے باوجود وزیراعظم نے یہ وباء شروع ہوتے ہی 1.2 کھرب روپے کا ایک پیکیج دیا وہ بنیادی طور پر اسی پالیسی کے تحت تھا کہ ہم نے کس طرح چھوٹے کاروبار کو کس طرح کور کرنا ہے۔ اس وقت 100 ارب روپے سے زائد کی رقم تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں اور اس پر مزید 65 سے 80 ہزار خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے اور ابھی یہ پروگرام چل رہا ہے اور اس نے آگے جانا ہے۔ ہم نے سمال میڈیم انڈسٹری کے لئے ایک پیکیج دیا جو کاروبار بند ہو رہے تھے، آج تو اللہ کا شکر ہے کہ ہم کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں لیکن آنے والے وقت میں ہم نے دیکھنا ہے کہ ہم کس طریقے سے سنبھالا دیں گے۔ ریسورسز ہمارے پاس ہیں نہیں، ہوگا وہی جو ندیم ملک کے ایک پروگرام میں ایک خاتون کا انٹرویو نشر ہوا دو روز قبل۔ اس خاتون کی کہانی کیا تھی۔ ندیم ملک کے شو میں ایک خاتون بتا رہی تھی کہ اس کے میاں نے زہر کی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے بچے روزہ پانی سے افطار کر رہے ہیں۔ اس طرح کی بڑی کہانیاں ہیں۔ اس طرح کی بڑی داستانیں ہیں۔ چیئرمین صاحب اگر ہم اسی طبقے کو دیکھ رہے ہیں، ہماری یہی تشویش تھی کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ کورونا سے تو نہ مریں لیکن بھوک سے مر جائیں۔ ایک کھرب سے زیادہ رقم ہم نے کسی ایک صوبے کو نہیں دیئے ہم نے ایک شفاف نظام لایا اور ہم نے ان تک یہ رقوم بھجوائیں۔ سندھ کو ہمارے اس پروگرام کے تحت 31 ارب روپے سے زائد کے وسائل دیئے گئے۔ صوبوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے سلوک کی بات آتی ہے۔ ہم نے این سی او سی کے نام سے ادارہ بنایا اور اس کو روزانہ کی بنیاد پر اسد عمر صاحب دیکھ رہے ہیں۔ اس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی شامل ہے، اس میں وزراء اعلیٰ شامل ہیں، اس میں سیکورٹی فورسز کے لوگ بھی شامل ہیں، ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اعداد و شمار جاری کرتے ہیں۔ ہر صوبے کو میڈیکل ایکوئپمنٹ پہنچائے گئے، ہر صوبے کو رقم دی گئی کہ وہ اس آفت سے نبرد آزما ہوں۔ بدقسمتی سے سندھ میں مضبوط لاک ڈائون کیا گیا لیکن لوگ راشن کے لئے پھر رہے تھے، لوگوں کو تکالیف ہوِئیں اور یہاں تک کہ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ ہم نے ہر صوبے کو سپورٹ کیا ہے، ہماری پوری کوشش رہی ہے کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ چاہے وہاں ہماری حکومت ہے یا نہیں۔ ہم ان کو مساوی طور پر ٹریٹ کریں۔ ہم نے اس پر کوئی سیاست نہیں کی، ہم اپوزیشن سے ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ اس کو سیاست میں نہ الجھائیں۔ کیونکہ ابھی میرے کولیگ مشاہد اللہ خان نے ذکر کیا کہ اس میں سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ ہم یہ کنفیوژن پیدا کریں جو اپوزیشن کر رہی ہے، ان کو چاہئے کہ وہ اپنا حصہ ڈالے، آپ تجاویز دیں، آپ سپورٹ کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وہ اشرافیہ ہے جو اس ملک میں رہ کر اور جب بیماری ہوتی ہے تو وہ بیرون ملک علاج کے لئے چلے جاتے ہیں۔ مشاہد اللہ خان صاحب کی صحت بھی ٹھیک نہیں، یہ ان کی بڑی بہادری ہے کہ وہ یہاں پر آئے۔ جب آپ اپنی جان کی حفاظت عوام سے پہلے سمجھ کر کریں اس کو اشرافیہ کہتے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ شہزاد اکبر نے اپنی رپورٹ میں کئی سوالات کئے ہیں، آپ ان کا جواب دیں۔ اسد عمر اور چیف منسٹر پنجاب چینی اور آٹے بحران کے سلسلہ میں کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، ہم نے تو کوئی ذکر نہیں کیا۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم قانون سے بالاتر نہیں ہیں، اشرافیہ کا ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانون کو بالاتر سمجھتے ہیں۔ اشرافیہ کی یہ تعریف ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو یہ آپ کا ہی لگایا ہوا پودا ہے۔ نیب میں اوپر سے نیچے تک سب ان کے لگائے ہوئے لوگ ہیں۔ عمران خان کو سپورٹ نہیں کرتے بھلے نہ کریں، آپ کو چاہئے کہ آپ پاکستان کے عوام کو تو سپورٹ کریں، اپنی تنظیموں کو متحرک کریں، عوام کے پاس جائیں ان کی داد رسی کریں، ان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار نے ثابت کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی صحیح تھی۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ معیشت دیوالیہ ہو جائے اور انہیں این آر او مل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری حکومت کو بڑے بڑے بحرانوں سے نکالا ہے۔ ہم اس بحران سے بھی کامیابی سے نکل آئیں گے۔ معاملات کو سیاست کی نظر نہیں کرنا چاہیے۔ اپوزیشن ایسی چیزوں کو ہوا نہ دے جن سے تفرقہ اور انتشار پیدا ہو۔ دشمن پہلے ہی چاہتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تتر بتر ہو جائے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان ایسی چیزوں پر بحث نہ کیا کریں جس سے معاشرے کے تقسیم ہونے کا خدشہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جن ارکان کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے ان کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔ عوام کو بھی اللہ تعالیٰ اس آفت اور وبا سے بچائے۔ ایک قوم ہوکر ہم اس وبا کو شکست دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے جو ایس او پیز ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کریں۔ دو تین مہینے مشکل ہیں۔ غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا تو انجام اچھا نہیں ہوگا اور بڑے نقصان سے دوچار ہو جائیں گے اور احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر دوبارہ کاروبار بند ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا نظر نہیں آتا لیکن اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔ ہمیں اپنے اندر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس موذی مرض کی وباسے ہمیں بچائے۔







