ترقی یافتہ ملکوں کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ایک طرف کورونا دوسری طرف اسکے معاشی اثرات ہیں، ہم نے دونوں سے نمٹنا ہے، پاکستان میں لاک ڈاؤن سے اڑھائی کروڑ ایسے لوگوں کا روزگار شدید متاثر ہوا جو دیہاڑی یا ہفتے کی آمدن پر گزارا کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان کورونا کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ایک طرف کورونا دوسری طرف اسکے معاشی اثرات ہیں، ہم نے دونوں سے نمٹنا ہے، پاکستان میں لاک ڈاؤن سے اڑھائی کروڑ ایسے لوگوں کا روزگار شدید متاثر ہوا جو دیہاڑی یا ہفتے کی آمدن پر گزارا کرتے ہیں، پیر سے رجسٹرڈ بیروزگاروں کو بھی میرے …

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، ایک طرف کورونا دوسری طرف اسکے معاشی اثرات ہیں، ہم نے دونوں سے نمٹنا ہے، پاکستان میں لاک ڈاؤن سے اڑھائی کروڑ ایسے لوگوں کا روزگار شدید متاثر ہوا جو دیہاڑی یا ہفتے کی آمدن پر گزارا کرتے ہیں، پیر سے رجسٹرڈ بیروزگاروں کو بھی میرے فنڈ سے نقد رقم ملنا شروع ہو جائے گی، مستحقین کو بارہ ہزار کی امداد پہلے ہی جاری ہے، صوبے ٹرانسپورٹ کھول دیں کیونکہ اس سے غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں، حالات کنٹرول میں ہیں لیکن کورونا کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کورونا کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر، وفاقی وزیر حماد اظہر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر فیصل اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کو پوری طرح احساس ہے کہ طبی شعبے سے وابستہ کارکنوں، ڈاکٹرز اور ماہرین پر اس وقت بہت بڑا دبائو ہے اور موجودہ صورتحال میں ان پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، وہ جہاد کر رہے ہیں، پوری دنیا اس وقت کورونا کے خلاف نبرد آزما ہے، ابھی تک کورونا وائرس کی ویکسین تیار نہیں ہو سکی اور اس سال تک ویکسین تیار ہونے کا امکان نہیں ہے اس لئے بظاہر یہ وائرس ابھی ختم ہونے والا نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈائون کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے وائرس سے تیزی سے نہیں پھیلتا کیونکہ اس وائرس سے تیزی سے پھیلنے کے لئے لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہے، لاک ڈائون کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو جمع ہونے سے روکا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین، جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ملکوں میں لاک ڈائون ختم ہوا تو کورونا کی دوسری لہر آ گئی اور یہ دوبارہ سے پھیلنے لگا، جب بھی کہیں لوگ جمع ہوں گے تو یہ وائرس تیزی سے پھیلے گا لیکن ہمارے سامنے مسئلہ ہے کہ کب تک لاک ڈائون کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ نے اس صورتحال میں دو ہزار دو سو ارب ڈالر، جرمنی نے ایک ہزار ارب یورو، جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالر کا پیکج دیا لیکن پاکستان نے 8 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا کیونکہ ہمارے وسائل محدود ہیں اور اپنے محدود وسائل کے اندر کب تک ہم لوگوں کو پیسہ دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف کورونا وائرس ہے اور دوسری طرف ہمیں اس کے معاشی اثرات کو بھی دیکھنا ہے، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے اڑھائی کروڑ افراد جو دیہاڑی یا ہفتے کی آمدن پر گزارا کرتے ہیں اور اس طرح اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ لاک ڈائون سے مجموعی طور پر پاکستان میں 15 کروڑ لوگ متاثر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو ڈاکٹرز اور طبی عملے کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے اور حکومت ان پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے لیکن میڈیکل کمیونٹی کے سامنے میں یہ سوال رکھتا ہوں کہ اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین تک 12 ہزار روپے کی نقد رقم پہنچائی، حکومت آخر کب تک اس طرح عوام کو امداد دے سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم نے این سی او سی کا ادارہ بنایا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے، تمام صوبوں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطہ اور مشاورت کی جاتی ہے، ہمیں اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کورونا کے کیسز بڑھیں گے لیکن ہم نے اگر عوام کے روزگار کا انتظام نہ کیا تو لوگ بھوک سے بھی مریں گے، باقی ملک شاید اپنی اکانومی بچا رہے ہوں لیکن ہمیں اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے پولیو اور دیگر ویکسینیشن کی مہمات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، ہمارے ملک میں حالات کنٹرول میں ہیں اور اللہ کے فضل سے جس طرح کے خدشات تھے اس کے مقابلے میں صورتحال زیادہ خراب نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 24 اپریل کو ہمارا یہ اندازہ تھا کہ 24 مئی تک کورونا کے 52 ہزار 695 کیسز ہوں گے اور ایک ہزار 324 اموات کا خدشہ تھا لیکن 14 مئی تک 35 ہزار 700 متاثرہ کیس اور 770 اموات ہوئی ہیں، اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے خدشات کے برعکس یہ زیادہ تیزی کے ساتھ نہیں بڑھا اس لئے ہسپتالوں پر بھی ابھی وہ دبائو نہیں جس کی توقع کی جا رہی تھی لیکن ہم ذہنی طور پر تیار ہیں کہ کیسز میں اضافہ ہو گا لیکن ہم اپنے ہسپتالوں میں سہولیات کو بھی بڑھا رہے ہیں تاکہ متاثرین کی تعداد بڑھے تو ان کے لئے ضروری انتظامات موجود ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر سو متاثرہ مریضوں میں سے چار یا پانچ کو ہسپتال جانے کی ضرورت پیش آتی ہے، کورونا کے کیسز بڑھنے کی وجہ سے ہسپتالوں میں جانے والوں کی تعداد بڑھے گی اور انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو) پر بھی دبائو آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھول رہے ہیں اور آہستہ آہستہ لاک ڈائون اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے دکانداروں اور کاروباری طبقے پر زور دیا کہ وہ ایس او پیز پر پوری طرح عمل کریں کیونکہ ہمیں کورونا کو پھیلنے سے بھی روکنا ہے اور لاک ڈائون سے متاثرہ 15 کروڑ لوگوں کے مسئلے کا حل بھی نکالنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار ضرور کریں لیکن ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے۔ انہوں نے ٹائیگر فورس پر بھی زور دیا کہ وہ اس حوالے سے عوام میں آگاہی اور شعور بیدار کرے جب تک عوام خود احتیاط نہیں کریں گے حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کھولنے کے حوالے سے صوبوں کے خدشات ہیں کہ اس کے نتیجہ میں وائرس تیزی سے پھیلے گا، ہم چونکہ فیصلے اتفاق رائے سے اور اپوزیشن جماعتوں اور صوبوں کے ساتھ مل کر کرتے ہیں اس لئے ان کے خدشات پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھولی لیکن میری صوبوں سے درخواست ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دیں کیونکہ ٹرانسپورٹ نہ کھلنے سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے جس کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہوتی اور اسے کام پر جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یورپ جہاں ایک دن میں پانچ پانچ سو اور آٹھ آٹھ سو لوگ مر رہے تھے انہوں نے بھی پبلک ٹرانسپورٹ بند نہیں کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کو بیروزگار ہونے والے طبقہ کا شدید احساس ہے اور ان کے لئے حکومت نے امداد کا پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت رجسٹریشن کرانے والوں کو جانچ پڑتال کے بعد پیر سے وزیراعظم کے فنڈ سے نقد رقم کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر وائرس تیزی سے نہ پھیلا تو کاروبار اور لاک ڈائون کھولتے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا ایک سال تک نہیں جائے گا اس لئے ہمیں اس کے ساتھ رہنے کے طریقے اختیار کرنے ہیں جس طرح پوری دنیا اس کے ساتھ رہنا سیکھ رہی ہے، ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کا بھی انتظام کرنا ہے اور ایک سال تک جب تک اس کی ویکسین نہ آ جائے اس کے ساتھ گزارا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے حکومت کے احساس پروگرام پر فخر ہے کسی بھی ملک میں اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ تعداد میں لوگوں کو اتنا پیسہ نہیں تقسیم کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح میری ٹیم نے ہر شبعے میں سوچ بچار کے اقدامات اٹھائے وہ قابل تعریف ہیں، انگلینڈ اور امریکہ جیسے ممالک کے مقابلے میں پاکستان بڑے منظم طریقے سے کوشش کے ذریعے مشکل صورتحال سے نکل رہا ہے، قوم نے ساتھ دیا تو آئندہ بھی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے لاکھوں خاندانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں امدادی رقم پہنچائی، اگر یہ نہ پہنچائی ہوتی تو اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ ہمیں کیسی صورتحال کا سامنا ہوتا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایسے وقت میں جبکہ کورونا کے باعث پوری دنیا میں اشیاء کی قیمتیں متاثر ہوئی ہیں، پاکستان میں رمضان کے باوجود قیمتیں نہیں بڑھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برصغیر میں سب سے کم ہیں، پاکستان کے مقابلہ میں برصغیر کے دوسرے ممالک میں پٹرولیم کی قیمتیں چالیس سے پچاس فیصد زیادہ ہیں، حکومت نے بجلی کے بلوں میں بھی عوام کو سہولت فراہم کی اور طبی ماہرین کی مشاورت سے حکومت آگے بڑھنے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس صورتحال کے نتیجہ میں ہم ایک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے اور رواں سال کے آخر تک ہمیں کورونا کے ساتھ رہنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہو گا، قوم جتنی زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرے گی صورتحال سے نمٹنا اتنا ہی آسان ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم احتیاط کریں گے تو ہم اپنے معاشرے کے غریب طبقات کے لئے بھی آسانیاں پیدا کریں گے۔ وزیراعظم نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں میں موجود بوڑھوں اور بیماروں کا خاص طور پر خیال رکھیں اور انہیں اس وائرس سے بچانے کے لئے احتیاط کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عید ماضی کی عیدوں سے بہت مختلف ہے اور ہم نے اسے ہمیشہ کی طرح نہیں منانا بلکہ عید پر زیادہ احتیاط کرنی ہے۔