وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

اسلام آباد ۔ 16 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ راتوں رات کورونا وائرس بھی ختم ہو جائے اور ساری چیزیں پہلے کی طرح ایک دم بحال ہو جائیں، حکومت کا کام سہولت دینا اور عوام کا کام تعاون کرنا ہے، حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ …

اسلام آباد ۔ 16 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ راتوں رات کورونا وائرس بھی ختم ہو جائے اور ساری چیزیں پہلے کی طرح ایک دم بحال ہو جائیں، حکومت کا کام سہولت دینا اور عوام کا کام تعاون کرنا ہے، حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب عوام کو چاہیے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کر کے ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بدعنوانی الزامات کا جواب دینا چاہیے، ہم ثبوت کے ساتھ ساری باتیں کر رہے ہیں، حکومت اور نیب کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے، ہوتا تو سیاستدان لندن نہ گھوم رہے ہوتے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کورونا بحران کی صورتحال میں پہلے دن سے تمام صوبوں کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کر رہی ہے، قومی رابطہ کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کوآپریشن سینٹر میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہے، اس میں صوبوں کو درپیش ایشوز پر بحث ہوتی ہے اور اتفاق رائے سے فیصلے ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلات و نشریات نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی بحالی کیلئے سب صوبوں نے اتفاق کیا، صرف سندھ کو اعتراض تھا، حکومت نے صنعتیں اور کاروبار کھول دیئے ہیں اسلئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بحال کرنا بھی ضروری تھا تاکہ لوگ آسانی سے روزگار کیلئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ایک مربوط پروگرام ہے اس میں خلا نہیں چھوڑ سکتے، ویلیو چین کو مکمل کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے کا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاﺅن کیا تو سب سے زیادہ تاجروں نے احتجاج کیا، اسلئے ضروری ہے کہ مخصوص ایس او پیز کے تحت ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بھی کھول دیا جائے، ایس او پیز پر عمل درآمد کرانا چیلنج ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں وباءکی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، عوام کو بھی ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیادی پالیسی لوگوں کی زندگیوں کو وائرس اور بھوک سے بچانا ہے، حکومت نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور وباءسے متعلق عوام کو مختلف طریقوں سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے، مکمل لاک ڈاﺅن ممکن ہے اور نہ ہی ڈنڈے سے عمل درآمد کروایا جا سکتا ہے، حکومت کا کام عوام کو سہولت دینا اور عوام کا کام تعاون کرنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ عوام کا تعاون ہو گا تو مرحلہ وار ریسٹورنس، سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کو بھی کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ جواب دیں، حکومت کیلئے معلومات لینا مشکل نہیں ہوتا، انہی کی جماعت کے لوگ بھی معلومات دے رہے ہیں، جو لوگ نیب کی حراست میں ہیں انہوں نے بھی اعتراف کر لیا ہے اور ہم ثبوت کے ساتھ ساری باتیں کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور نیب کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے، ہوتا تو سیاستدان لندن میں نہ گھوم رہے ہوتے۔