وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 2 جون (اے پی پی) قومی رابطہ کمیٹی میں تمام صوبائی وزراءاعلی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے مروجہ پلان نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو ارسال کئے جائیں تاکہ فیصلوں پر عملدرآمد کو موثر اور یقینی بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اسد عمر نے این سی او سی کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہو ئے کیا جس میں این …

اسلام آباد ۔ 2 جون (اے پی پی) قومی رابطہ کمیٹی میں تمام صوبائی وزراءاعلی کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے مروجہ پلان نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو ارسال کئے جائیں تاکہ فیصلوں پر عملدرآمد کو موثر اور یقینی بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اسد عمر نے این سی او سی کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہو ئے کیا جس میں این سی او سی نے کیے گئے فیصلوں پر آئندہ کے لائحہ عمل، سیاحت کے شعبے کو کھولنے سے متعلق تجاویز، اور ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے غور کیا۔ اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی چیف سیکرٹریز سے عملدرآمد کیلئے مرتب کیا گیا لائحہ عمل این سی او سی کو پیش کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بازار،پبلک ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے انتہائی خطرناک جگہیں ہیں جہاں پر کورونا کے پھیلاو¿ کا خدشہ بہت زیادہ ہے جس کے لیے ایس او پیز پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے فورم کو آگاہ کیا کہ وزارتِ صحت نے طبی ماہرین کی کمیٹی اور صوبائی مشاورت کیساتھ تقریباً 26 ایس او پیز گائیڈ لائنز اور پروٹوکولز ترتیب دیے جنکا مقصد تمام شعبہ ہائے زندگی میں کرونا وائرس کے تدارک اور عدم پھیلاو¿ کو یقینی بنانا تھا۔انکا مزید کہنا تھا کہ بزرگوں پر مشتمل آبادیوں کو بچانے کیلئے اور انتہائی کمزور لوگوں کو کرونا وائرس کے حملے سے محفوظ کرنے کیلئے ایک نئی خفاظتی گائیڈ لائن ترتیب دی گئی ہے جو کہ آج کے روز جاری کر دی جائیں گی۔ وفاقی وزیر برائے داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے کہا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر واضح سزا تجویز کی جائے تاکہ حفاظتی تدابیر پر سخت عملدرآمد ہو سکے انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو موثر طریقے سے متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں کرونا وائرس سے متعلق آگہی اور شعور کو اجاگر کرنے کیلئے اور خفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کرنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شباہت علی شاہ نے فورم کو بتایا کہ بورڈ نے 6 بڑے شہروں کی آبادی کا تناسب کے لحاظ سے مشاہدہ مکمل کر لیا ہے جس میں تمام صوبائی دارلحکومت شامل ہیں جس کی مدد سے کورونا مثبت مشتبہ مریضوں اور تندرست آبادی کو ڈیٹا میپ کے ذریعے دیکھا جا سکے گا اور موثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے گی۔