اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی) پاکستان نے طالبان اور دیگر وابستہ افراد اور اداروں کے بارے میں اقوام متحدہ کی تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی گیارہویں رپورٹ پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پاکستان پر الزامات لگائے، پاکستان بھارت کے مذموم الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتا …
پاکستان نے طالبان اور دیگر وابستہ افراد اور اداروں کے بارے میں اقوام متحدہ کی تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کر دیا بھارت نے رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پاکستان پر الزامات لگائے، پاکستان بھارت کے مذموم الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے، بھارت دہشت کردی کو پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی) پاکستان نے طالبان اور دیگر وابستہ افراد اور اداروں کے بارے میں اقوام متحدہ کی تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی گیارہویں رپورٹ پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پاکستان پر الزامات لگائے، پاکستان بھارت کے مذموم الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے، بھارت دہشت کردی کو پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کو طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نے ایم ٹی رپورٹ پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گیارہویں رپورٹ میں افغان امن عمل پر عالمی برادری نے شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا گیاتھا۔ رپورٹ میں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کا بھی ذکر نہیں۔ رپورٹ میں امن و استحکام اور دیگر عوامل کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت نے افغان امن عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اور رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پاکستان پر الزامات لگائے ہیں۔ترجمان نے کہا یہ رپورٹ ایم ٹی کو افغانستان میں فراہم کردہ بریفنگز پر مبنی ہے جو بعض حلقوں کی جانب سے افغان امن عمل کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے ایم ٹی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور بے بنیا الزامات عائد کر نے کا مقصد افغان امن عمل کو پیچیدہ بنانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بھارت کی پاکستان کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کو اجاگر کرتا رہا ہے۔ ایم ٹی رپورٹ میں پاکستان کے اس مؤقف کی توثیق کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان سے کام کررہا ہے اور بھارتی حمایت سے پاکستان اور خطہ کے دیگر ممالک کو خطرہ ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردی کی فہرست میں متعدد ہندوستانی دہشت گردی کے سہولت کاروں کی فہرست سازی کی تجویز پیش کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سلامتی کونسل انہیں جلد نامزد کرے گی۔ترجمان نے کہا کہ رپورٹ میں بھارت کی داعش کو سہولت کاری فراہم۔کرنے کے بھی ثبوت فراہم کئے گئے ہیں اور یہ کہ ہندوستان سے غیرملکی دہشت گرد داعش میں شامل ہونے کیلئے افغانستان جا رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ شامل ہونے کیلئے دہشت گردوں کا افغانستان میں داخلہ روکے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ہندوستانی شہری اور ہندوستانی برصغیر میں داعش کا رہنما ، گزشتہ سال افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ ایم ٹی کی ابتدائی اطلاعات نے ہندوستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی طاقت اور 2019ء میں ایسٹر سنڈے حملے میں اس کے کردار کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو پاکستان سمیت اپنی ہمسایہ ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام 5 اگست 2019ء سے آر ایس ایس اور بی جے پی کی زیرقیادت انتہا پسند حکومت کی طرف سے مسلسل بربریت، جبر اور ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔








