پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں بدھ مت ثقافتی ورثے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات مسترد الزامات تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے متعلقہ قراردادوں کے منافی ہیں ،ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی

اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی) پاکستان نے گلگت بلتستان میں بدھ مت ثقافتی ورثے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر متنازعہ …

اسلام آباد ۔ 4 جون (اے پی پی) پاکستان نے گلگت بلتستان میں بدھ مت ثقافتی ورثے سے متعلق بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جس کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے۔ یہ تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل سب سے دیرینہ حل طلب تنازعہ ہے،جس پر 1947 کے بعد سے بھارت نے زبردستی ، وحشیانہ اور غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی دعوؤں سے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ گلگت بلتستان میں بدھ مت مذہبی ثقافتی ورثے سے متعلق بھارتی الزامات بے معنی اور مضحکہ خیز ہیں۔ یہ بھارت قیادت کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزیوں اور ملک کے اندر اقلیتوں پر آر ایس ایس کے غنڈوں کے مظالم کے حوالے اپنا ریکارڈ داغدار ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالتی قتل ، تاریخی بابری مسجد سمیت اقلیتوں کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ ، 2002 کا گجرات قتل عام اور فروری میں دہلی میں مسلمانوں کا ٹارگٹ کلنگ اور این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزن) سے لاکھوں کو بے گھر کرنے جیسے اقدامات سے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسان دوست تنظیمیں بخوبی آگاہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اپنی سرحدوں سے باہر اقلیتوں سے متعلق واویلا کرنے کے بجائے اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی قیادت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے اندر اقلیتوں کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرے۔ترجمان نے کہا بھار ت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ گلگت بلتستان کے بارے میں اس کی بے بنیاد الزامات بین الاقوامی توجہ جموں و کشمیر تنازعہ اور اقوام متحدہ کے متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس کے فوری حل کی ضرورت سے ہٹا نہیں سکتی۔

مزید خبریں