پشاور۔06جون (اے پی پی)وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ صوبے کے اسپتالوں میں بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی کمی نہیں ہے، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلئے 5473بیڈز اور 508وینٹی لیٹرز مختص ہیں،ہم نے کاروبار میں جو نرمی کی ہے وہ ایس او پیز سے مشروط ہے،عوام نے احتیاط نہ کی تو کورونا وبا مزید بڑھ سکتی ہے، …
صوبے کے اسپتالوں میں بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی کمی نہیں ہے،مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل وزیر

مزید خبریں
پشاور۔06جون (اے پی پی)وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ صوبے کے اسپتالوں میں بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی کمی نہیں ہے، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلئے 5473بیڈز اور 508وینٹی لیٹرز مختص ہیں،ہم نے کاروبار میں جو نرمی کی ہے وہ ایس او پیز سے مشروط ہے،عوام نے احتیاط نہ کی تو کورونا وبا مزید بڑھ سکتی ہے، عوام کی حفاظت کےلئے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں، جہاں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوگی کارروائی کی جائے گی،مشکل وقت میں ہمیں اس وقت مشکل فیصلے کرنے ہیں، ایس او پیز کی خلاف ورزی سے نظامِ صحت پر بوجھ بڑھ جائے گا عوام کی سہولت کےلئے لاک ڈاون میں نرمی کی گئی،ایس او پیز کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہوگی،صوبے میں شعبہ صحت پوری تیاری کے ساتھ کام کررہاہے ، کورونا کوشکست دینے کا واحد حل ایس او پیز پر عمل ہے،عوام کے تحفظ کےلئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں،نہیں چاہتے ہیں کہ سختی کریں لیکن مجبوری ہے کہ اس وبا کو شکست دینی ہے، کورونا وائرس کی وباءکے مشکل حالات میں اوور سیز پاکستانیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اجمل وزیر کا کہناتھا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں ٹوٹل 1800بیڈز اور 63وینٹیلیٹرز ہیںجن میں 105بیڈز اور 25وینٹیلیٹرز کورونا مریضوں کےلئے مختص ہیں جبکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 1300بیڈز اور 56وینٹیلیٹر ہیں جن میں 55بیڈز اور 25وینٹیلیٹرز کورنا مریضوں کےلئے مختص ہیں،اسی طرح حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 1250 بیڈز اور 52 وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے 25 وینٹی لیٹرز اور 128 بیڈز کورونا مریضوں کے لیے مختص ہیں۔انہوں نے صوبے میں پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی سے متعلق کہا کہ گندم کا مسئلہ پنجاب کیساتھ اٹھایا گیاہے اور کابینہ اجلاس میں بھی اس پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، آٹے اور گندم کا مسئلہ قومی رابطہ کمیٹی میں بھی اٹھایا گیا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے مسئلے کے حل کی بھرپور یقین دہانی کرائی ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے میں ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ذخیرہ اندوزی کا قلع قمع کرنے کےلئے آرڈنینس نافذ کیا گیا ہے جس میں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔انہوں نے صوبے میں پیٹرول کی قلت کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان نے پیٹرول مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کر رکھی ہے جسکے مطابق صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں انتظامیہ پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں کررہی ہے،صوبہ بھر میں کئی پٹرول پمپس سیل بھی کئے گئے ہیں۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی انتظامیہ حرکت میں ہے،وزیراعلی محمود خان کی ہدایت پر مختلف اضلاع میں متعدد مارکیٹس خلاف ورزی پر سیل کی جا رہی ہیں، لاک ڈاﺅن میں نرمی ایس او پیز پر عمل درآمد سے مشروط تھی اس لئے ایس او پیز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں صوبے کے سیاحتی مقامات ایس او پیز کے تحت کھولنے کی منظوری بھی دی گئی ہے،وزیر اعلی محمود خان خود کورونا کی صورتحال مانیٹر کررہے ہیں وہ خود ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز کے دورے کررہے ہیں اور روزانہ تمام متعلقہ محکموں سے بریفنگ لیتے ہیں۔اجمل وزیر نے کہا کہ سینئر صحافی فخرالدین سید نے کورونا کے حوالے سے آگاہی پیدا کرتے ہوئے خود کورونا وائرس کے شکارہو گئے انکی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، محکمہ اطلاعات کے دو افیسر رضوان ملک اور سید بلال کاظمی بھی فرنٹ لائن پر ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے کورونا کا شکار ہوئے ہیں،کورونا کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے سوائے احتیاطی تدابیر کے، اس لئے عوام سے درخواست ہے کہ حکومت کے قواعد وضوابط پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔








