اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کووڈ۔19 کے پھیلاﺅ اور اس پر قابو پانے کے لئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایس او پیز کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی طرف جانے والے اولین …
کووڈ۔19 کے پھیلاﺅ اور اس پر قابو پانے کے لئے ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہےوزیراعظم عمران خان کے الگ الگ ٹویٹس
اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کووڈ۔19 کے پھیلاﺅ اور اس پر قابو پانے کے لئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایس او پیز کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی طرف جانے والے اولین ممالک میں شامل ہے۔ ہفتہ کو اپنے الگ الگ ٹویٹس میں وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کا مطلب معیشت کی تباہی، غریب ممالک میں غربت میں تیزی سے اضافہ اور غریبوں کو کچلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس مسئلہ کا واحد حل سمارٹ لاک ڈاﺅن ہے جو ایس او پیز کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت دیتا ہے، ہم اس نکتہ نظر پر عمل پیرا ہیں۔ وزیراعظم نے سول سوسائٹی، میڈیا، علماءکرام اور ٹائیگر فورس سے اپیل کی کہ کووڈ۔19 کے پھیلاﺅ اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کی جائے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام سے ایک ویڈیو کلپ بھی شیئر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ویڈیو کلپ میں ہماری حکومت کو آج جو المیہ درپیش ہے وہ واضح ہے۔ ایک جانب عوام ہیں جو وباءکو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور دوسری جانب ہمارے ڈاکٹرز اور طبی معاونین وغیرہ ہیں جو بیماری کے خلاف صف اول میں برسرپیکار اور قابل فہم طور پر سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ہماری اشرافیہ کا ایک حصہ جسے رہنے کے لئے وسیع و پرآسائش رہائش گاہیں میسر ہیں اور جن کی آمدن محفوظ ہے، ملک میں لاک ڈاﺅن چاہتا ہے۔ یہ لاک ڈاﺅن معیشت کی تباہی، نادار ممالک میں غربت میں تیزی سے اضافے اور غریبوں کو کچلنے کے مترادف ہیں جیسا کہ بھارت میں مودی کے لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں ہوا۔









