وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 7 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 1985ءسے شوگر ملوں کو لگانے اور سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے‘ نیب شوگر کمیشن کی رپورٹ پر 9شوگر ملوں کو گزشتہ 5سال میں سبسڈی دینے کے معاملے پر فوجداری کارروائی کرے گا‘ سیلز ٹیکس اور بے نامی ٹرانزیکشنز کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا …

اسلام آباد ۔ 7 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 1985ءسے شوگر ملوں کو لگانے اور سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے‘ نیب شوگر کمیشن کی رپورٹ پر 9شوگر ملوں کو گزشتہ 5سال میں سبسڈی دینے کے معاملے پر فوجداری کارروائی کرے گا‘ سیلز ٹیکس اور بے نامی ٹرانزیکشنز کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا جا رہا ہے‘ مسابقتی کمیشن چینی کے کاروبار کی 90روز میں تحقیقات کرے گا‘ جعلی برآمدات اور منی لانڈرنگ کی ایف آئی اے تحقیقات کرے گا‘چینی کی قیمتوں کو پیداواری لاگت کے تناسب سے کم کرنے کے لئے وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کی قیادت میں کمیٹی قائم کی گئی، کوئی شخص جتنا بھی طاقتور ہی کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر شوگر کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات قائدین کو پیش کیں۔ شوگر کمیشن کی سفارشات اور دیگر ماہرین کی مشاورت سے اس حوالے سے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا جن کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کا شراکت داروں کا تعلق کسی نہ کسی طور پر سیاست سے ہے، یہ لوگ ٹیکس چوری اور سبسڈی حاصل کر کے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف تھے۔ ماضی میں بھی چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تحقیقات نہیں ہوئیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دور حکومت میں چینی کی قیمتیں بڑھنے پر تحقیقات کرنے اور ان کو عوام کے سامنے لانے کا وعدہ کیا جو انہوں نے اب پورا کر دیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ 2018ءمیں عوام نے وزیراعظم عمران خان کو احتساب کےلئے مینڈیٹ دیا، ماضی میں غریب کا احتساب اور استحصال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ کوئی جتنا بھی طاقتور ہو اس کا احتساب ہو گا کسی کو استثنی نہیں ملے گا، یہی پاکستان تحریک انصاف کا منشور بھی ہے، شفافیت احتساب کےلئے ناگزیر ہے، یہی وجہ ہے کہ پہلی بار شفافیت سے شوگر ملوں کی پیداواری لاگت کا تخمینہ لگایا گیا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگر ملوں کو 29ارب روپے کی سبسڈیز کا معاملہ نیب کو بھیجا جائے گا۔ 2014-15ءمیں شوگر ملوں کو ساڑھے چھ ارب روپے، 2015-16ءمیں 6.5ارب روپے، 2016-17ءمیں 120ارب روپے وفاقی حکومت نے جبکہ سندھ حکومت نے 4.1ارب روپے کی سبسڈی دی۔ 2018-19ءمیں پنجاب حکومت نے سبسڈیز دی۔ اس سبسڈیز کی تحقیقات نیب کسی بھی افسر سے کرنے کا مجاز ہو گا۔ 1985ءسے اب تک چینی ملوں کے قیام اور سبسڈیز سے متعلق تحقیقات کےلئے نیب کو ریفرنس بھیجا جائے گا۔1990 ءمیں ایک سیاسی خاندان نے اپنی شوگر ملوں کو خود سبسڈی دی اور چینی بھارت کو برآمد کی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں فرانزک آڈٹ کے دوران سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس فراڈ کے شواہد ملے ہیں یہ معاملہ ایف بی آر کو بھیجا جا رہا ہے وہ اس کی 90دن میں تحقیقات کر کے کارروائی کرے گا۔ ایف بی آر ان 9ملوں کے دیگر ملوں کا بھی آڈٹ کرے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ مسابقتی کمیشن میں شفافیت لائی گئی ہے۔ مسابقتی کمیشن 90دن میں کارٹیلائزیشن کی تحقیقات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد سے متعلق جعلی دستاویزات پر سبسڈی حاصل کرنے کی سٹیٹ بینک تحقیقات 90روز میں مکمل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک لمیٹیڈ اور پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنیوں میں ادائیگی میں خورد برد کی تحقیقات کی جائیں گی۔ افغانستان کو چینی کی برآمد میں جعلسازی اور منی لانڈرنگ کی ایف آئی اے تحقیقات 90دن میں مکمل کرے گا اور مقدمات عدالتوں میں دائر کیے جائیں گے، شوگر ملوں نے صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی منظور شدہ پیداواری صلاحیت سے زائد چینی کی پیداوار کی صلاحیت حاصل کی اس کی تحقیقات متعلقہ صوبائی محکمہ انٹی کرپشن کریں گے۔ شوگر ملوں نے اپنے اپنے علاقوں میں سماجی ترقی کےلئے مختص رقم میں بھی خورد برد کی ہے۔ اس معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ شوگر پالیسی میں بہتری اور چینی کی قیمتوں میں پیداواری لاگت کے تناسب سے مناسب کمی کےلئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کی قیادت میں خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے تا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ بتدریج تمام مافیاز کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے شوگر رپورٹ آنے کے بعد ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے، پہلے وہ یہ رپورٹ پڑھ لیں پھر 20ارب روپے سبسڈی دے کر عوام کو چونا لگانے کا جواب دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر اور مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا موقف پیش کیا۔ اب یہ معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں۔ امید ہے نیب بلا امتیاز کارروائی کرے گا۔