اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) عالمی بینک گروپ کے صدرڈیوڈ ملپاس نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کی بحالی اوربڑھوتری کیلئے نجی شعبہ کوبحال اورسرکاری شعبے کی کارگردگی میں بہتری لانا ضروری ہے، قرضوں میں سہولت کیلئے گروپ 20 ممالک کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ عالمی بینک کوروناوائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک کو ان کی ضروریات …
عالمی معیشت کی بحالی کیلئے نجی شعبہ کی بحالی،سرکاری شعبے کی کارگردگی میں بہتری ضروری ہے، صدر عالمی بینک گروپ
اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) عالمی بینک گروپ کے صدرڈیوڈ ملپاس نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کی بحالی اوربڑھوتری کیلئے نجی شعبہ کوبحال اورسرکاری شعبے کی کارگردگی میں بہتری لانا ضروری ہے، قرضوں میں سہولت کیلئے گروپ 20 ممالک کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ عالمی بینک کوروناوائرس کی وبا سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک کو ان کی ضروریات کے مطابق معاونت فراہم کررہا ہے، موجودہ وباءاس لحاظ سے سنگین ہے کہ اس نے نہ صرف لوگوں کی صحت کو بلکہ معیشت کو بھی بری طرح سے متاثرکیا، جن ممالک کووسائل اوراستعداد میں کمی کاپہلے سے سامنا تھا وہ اس وباءسے بری طرح متاثرہوئے، یہ ممالک اپنی معیشتوں کا بہترطریقے سے تحفظ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے تناظرمیں عالمی بینک نے مختلف ممالک کیلئے پروگرام بنائے کیونکہ مختلف ممالک کی ضرورریات مختلف ہیں۔ ڈیوڈ ملپاس نے کہاکہ انتہائی غریب ممالک میں بجلی اوربراڈ بینڈ کی سہولیات کا پہلے سے فقدان تھا، عالمی بینک ان ممالک میں سہولیات کی فراہمی کیلئے کام کررہاہے کیونکہ ان سہولیات کی فراہمی سے لوگوں میں بالخصوص وباءاورصحت عامہ کے مسائل بارے آگاہی میں مددمل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ وبا سے عالمی معیشت کوپہنچنے والے نقصان کے ازالہ کیلئے اقدامات ضروری ہے، عالمی بینک گروتھ کیلئے مختلف ممالک کے ساتھ مل کرکام کررہا ہے ، اس ضمن میں بین الاقوامی فنانس کارپوریشن کا کرداراہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ وبا کے تناظرمیں ترقی پذیرممالک میں اشیاءکی نقل وحمل کو برقراررکھنا ایک اہم مسئلہ ہے، اس ضمن میں عالمی بینک نے 1.4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا پروگرام بنایا ہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ وبا کی وجہ سے ترقی پذیرممالک میں محصولات کا نظام متاثرہوا جس کی وجہ سے ان ممالک پرواجب الاداقرضوں کے نظام پربھی اثرات مرتب ہوئے ہیں، قرضوں میں سہولت کیلئے گروپ 20 ممالک نے جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل تعریف ہیں اوراسی طرح کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔









