بیرون ملک پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں‘ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں‘ کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر بیرون ملک پھنسے 1 لاکھ 22 ہزار 700 پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لئے رجسٹریشن کرائی ہے‘ 35 ہزار پاکستانی واپس پہنچ چکے ہیں‘ دیگر پاکستانیوں کی واپسی کے لئے بھی حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے‘ تمام …

اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں‘ کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر بیرون ملک پھنسے 1 لاکھ 22 ہزار 700 پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لئے رجسٹریشن کرائی ہے‘ 35 ہزار پاکستانی واپس پہنچ چکے ہیں‘ دیگر پاکستانیوں کی واپسی کے لئے بھی حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے‘ تمام صوبے اس سلسلے میں این سی او سی کے پلیٹ فارم پر ہماری سپورٹ کریں۔ پیر کو قومی اسمبلی میں ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں۔ فروری کے آخری ہفتہ میں دبئی اور سعودی عرب میں کرفیو کا نفاذ تھا۔ ہم نے وزارت میں شکایات کا مرکز بنایا۔ ایک ایک ایشو کی خود نگرانی کرتا ہوں اور متعلقہ حکام تک پہنچاتا ہوں۔ کرفیو کی وجہ سے ان ممالک میں ہوائی اڈے بند کردیئے گئے۔ مارچ میں ہم نے بھی ایئرپورٹ بند کردیئے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں لوگوں کا روزگار ختم ہوگیا‘ ہم نے وزیراعظم کی ہدایت پر دبئی میں 15 ہزار پاکستانی خاندانوں کو راشن پہنچایا۔ ہم نے بیروزگار پاکستانیوں کی واپسی کے لئے دنیا کے تمام ممالک سے رابطے کئے۔ ہم نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کو وطن واپس لانا چاہتے ہیں۔ 122700 پاکستانیوں نے وطن آنے کے لئے رجسٹریشن کرائی۔ اب تک 35 ہزار پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانیوں کی واپسی کے لئے ٹکٹ کا انتظام‘ ٹیسٹنگ کی سہولت‘ ایس او پیز پر عملدرآمد اور دونوں ممالک کی رضامندی ضروری تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام پاکستانیوں کے تحفظ اور واپسی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اب پروازوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانیوں کو ہنگامی بنیادوں پر واپس لانا چاہتے ہیں۔ پروازیں بھی بڑھانا چاہتے ہیں۔ جس طرح ہم نے خیبرپختونخوا میں انتظامات کئے اسی طرح این سی او سی میں دیگر صوبے بھی تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان سے میتوں کی واپسی کے لئے رابطے کئے جارہے ہیں۔ سعودی عرب سے 46 میتیں واپس لائی گئی ہیں۔ ملتان‘ لاہور‘ پشاور‘ نوشہرہ میں کورنٹائن سنٹرز قائم ہیں۔ ہم نے ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کو ان قرنطیہ سنٹرز میں ایسے رکھیں جیسے مہمان کو رکھتے ہیں۔ تمام صوبائی حکومتیں ہوائی اڈوں کے حوالے سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ کہیں بھی ہمارا پاکستانی مشکل میں ہے تو وہ کمپلینٹ سنٹر رابطہ کرے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ ہمارے ان فیصلوں میں ہماری سپورٹ کریں۔ قبل ازیں خواجہ آصف‘ احسن اقبال‘ راجہ پرویز اشرف‘ محسن داوڑ‘ مولانا عبدالواسع‘ مولانا عبدالکبر چترالی اور شیر اکبر خان نے نکتہ ہائے اعتراضات پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لئے ایمرجنسی منصوبہ بنایا جائے۔ اگر ان کی واپسی کے لئے ہمارے پاس اپنی پروازیں موجود نہیں ہیں تو فلائٹ چارٹرڈ بھی کرنی پڑے تو کی جائے۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ بیرون ملک کرونا وائرس کی بناءپر پھنسے پاکستانیوں کے کھانے پینے کا انتظام سفارتخانوں کے ذریعے کیا جائے اور ان کی اس سلسلے میں ہر ممکن حد تک مدد کی جائے۔