اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وباءکے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات کے ازالہ کیلئے عالمی سطح پر ایک جامع اور مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے پیر کو آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اور اپنے ہم منصب سیمن کووینی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران دوطرفہ تعلقات، …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اور اپنے ہم منصب سیمن کووینی سے ٹیلیفونک رابطہ
اسلام آباد ۔ 8 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وباءکے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات کے ازالہ کیلئے عالمی سطح پر ایک جامع اور مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے پیر کو آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اور اپنے ہم منصب سیمن کووینی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران دوطرفہ تعلقات، کورونا عالمی وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور زیر بحث آئے۔ وزیر خارجہ نے کورونا وباءکے باعث آئرلینڈ میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس وباءکے پھیلاو¿ کو روکنے کےلئے آئرلینڈ کی طرف سے اٹھائے گئے مو¿ثر اور بروقت اقدامات کی تعریف کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وبائی چیلنج اس صدی میں انسانیت کو پیش آنے والے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے آئرش ہم منصب کو پاکستان میں کورونا وباءکی موجودہ صورتحال اور پاکستان کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباءکے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مضمرات کے ازالہ کیلئے عالمی سطح پر ایک جامع اور مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس تشویشناک معاشی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کےلئے وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کو ان ممالک کیلئے ”ڈیٹ ریلیف“ کی فراہمی کی تجویز دی ہے۔ آئرش وزیر خارجہ نے ڈیٹ ریلیف تجویز کو سراہتے ہوئے اس سلسلہ میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔آئیریش وزیر خارجہ نے کہا کہ کرونا وائرس کے خلاف ویکسین متعارف ہونے کے بعد اس کی دستیابی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک کو بھی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل اصلاحات کے حوالے سے آئرلینڈ اور پاکستان کے نقطہ نظر میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ وزیر خارجہ نے آئرلینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بدترین کرفیو اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈومیسائل قوانین میں ترمیم کے ذریعے آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جو کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اپنی ہندوتوا سوچ کے تحت بھارتی مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کا ذمہ دار قرار دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے عالمی برادری کو بھارت کے اس منفی رویے کا فوری نوٹس لینا ہو گا۔آئرش وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم خطہ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آئرلینڈ کا نکتہ نظر واضح ہے۔ دونوں وزراءخارجہ نے کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کیلئے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔









