اسلام آباد ۔ 9 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ یہ وقت افراتفری پھیلانے کا نہیں بلکہ قوم کو احتیاط کی ضرورت ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکمت بری طرح فیل ہو چکی ہے وہاں پر ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا، بلاول بھٹو زرداری کو اٹھارویں ترمیم پر ٹیوشن لے لینی چاہیئے تاکہ وہ لاعلمی کی …
احساس کیش ریلیف پروگرام کے تحت سندھ کے مستحق طبقے کو81 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل
اسلام آباد ۔ 9 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ یہ وقت افراتفری پھیلانے کا نہیں بلکہ قوم کو احتیاط کی ضرورت ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکمت بری طرح فیل ہو چکی ہے وہاں پر ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا، بلاول بھٹو زرداری کو اٹھارویں ترمیم پر ٹیوشن لے لینی چاہیئے تاکہ وہ لاعلمی کی دنیا سے باہر قدم رکھ سکیں، احساس کیش ریلیف پروگرام کے تحت سندھ کے مستحق طبقے کو81 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں۔ٹویٹر پر جاری بیان میں زرتاج گل نے کہا کہ اس وقت ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے اور افراتفری پھیلانا قوم کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو تالا لگا کر سب کو گھر بٹھا دینا کہیں سے بھی صحیح حکمت عملی نہیں، تمام ممالک اپنی معیشت کھول رہے ہیں کیونکہ لوگوں کی کمائی اور کاروبار کی ضرورت ہے۔ زرتاج گل نے کہا کہ بدلتے حالات کے ساتھ حکومت مربوط حکمت عملی بنا رہی ہے،کسی پر تنقید کرنا بہت آسان ہے لیکن جو معصومانہ حل حزب اختلاف کی طرف سے بتائے جا رہے ہیں وہ معیشت کا پہیہ مکمل جام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ بلاول زرداری دعووں کے برخلاف، کورونا وائرس کی وبا پر کنٹرول کے معاملے میں ڈوبی ہوئی سیاست چمکانے میں پیش پیش ہیں، لیکن سندھ کے معصوم عوام کے لئے پچھلے آٹھ سالوں میں صحت کے لئے وفاق کی طرف سے دیئے گئے ساڑھے پانچ کھرب روپے جانے کہاں پہنچا دیئے گئے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکمت بری طرح فیل ہو چکی ہے وہاں پر ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کو بے آسرا چھوڑ دیا اور پریس کانفرنسز میں ان کے لیڈران کہانیاں اور شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک احساس کیش ریلیف پروگرام کے ذریعے سندھ کے مستحق طبقے کو 81 ارب روپے دے چکی ہے اور ٹڈی دل کے معاملے میں بھی وفاق نے بھاری امداد کی ہے اور معاملہ اپنے ہاتھ میں لیا جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی تھی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اٹھارویں ترمیم پر ٹیوشن لے لینی چاہیئے تاکہ وہ لاعلمی کی دنیا سے باہر قدم رکھ سکیں۔









