مہلک کورونا وائرس کی علامات کے بغیر دوسرے شخص کو منتقلی اب بھی ایک سوال ہے، عالمی ادارہ صحت

جنیوا ۔ 10 جون (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ مکمل طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ مہلک کورونا وائرس کی کتنی منتقلی ان لوگوں کے ذریعے ہوتی ہے جن میں اس کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر ماریہ وین کرخوف نے اس سے قبل کہا تھا کہ …

جنیوا ۔ 10 جون (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ مکمل طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ مہلک کورونا وائرس کی کتنی منتقلی ان لوگوں کے ذریعے ہوتی ہے جن میں اس کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر ماریہ وین کرخوف نے اس سے قبل کہا تھا کہ یہ بہت کم ہی ہوتا ہے کہ علامات کے بغیر متاثرہ لوگ بیماری کو پھیلائیں لیکن اب انھوں نے کہا ہے کہ یہ مشاہدہ نسبتاً بہت تھوڑی تحقیق کو دیکھ کر کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں میں علامات ہوتی ہیں وہ ہی سب سے زیادہ انفیکشن پھیلا سکتے ہیں، لیکن یہ بیماری علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پھیل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ لوگوں کی ایسی تعداد موجود ہے جن کے ٹیسٹ تو مثبت آئے ہیں لیکن ان میں علامات نہیں ہیں، لیکن یہ پتہ نہیں کہ ان میں سے کتنے لوگ دوسروں کو متاثر کرسکتے تھے۔ ڈاکٹر ڈاکٹر ماریہ وین کرخوف کا کہنا ہے کہ وہ جس ثبوت کی بات کر رہی ہیں وہ ان ممالک سے آئے ہیں جہاں بہت زیادہ تفصیل سے ”کونٹیکٹ ٹریسنگ” کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں انفیکشنز کے کلسٹرز پر تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ جہاں بھی علامات کے بغیر متاثرہ شخص کے کیس پر تحقیق کی گئی تو بہت کم ہی یہ دیکھنے میں آیا کہ اس کے رابطوں اور میل ملاپ سے بھی کسی میں انفیکشن منتقل ہوتا ہو۔