ہم قومی اداروں میں اصلاحات کے ذریعے خسارے کو کم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، مراد سعید

اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں برسراقتدار آتے ہی پاکستان سٹیل ملز' پی آئی اے' او جی ڈی سی ایل' بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت دیگر 41 اداروں کو نجکاری کی فہرست میں ڈالا' پی آئی اے کا خسارہ 500 ارب تک پہنچ گیا' ہم قومی اداروں میں اصلاحات کے ذریعے خسارے …

اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں برسراقتدار آتے ہی پاکستان سٹیل ملز’ پی آئی اے’ او جی ڈی سی ایل’ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت دیگر 41 اداروں کو نجکاری کی فہرست میں ڈالا’ پی آئی اے کا خسارہ 500 ارب تک پہنچ گیا’ ہم قومی اداروں میں اصلاحات کے ذریعے خسارے کو کم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں’ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں’ اپوزیشن نے اگر انہیں کرونا کے ساتھ جوڑا تو ہم اس پر سخت احتجاج کریں گے’ تحریک انصاف کی حکومت کو تباہ حال معیشت ورثے میں ملی مگر اس کے باوجود ہم کورونا جیسی وباء کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے نکات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ نجکاری اور اداروں کے خسارے معاملہ پر اعداد و شمار موجود ہیں۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے سب سے پہلے 41 ادارے نجکاری کی فہرست میں ڈالے۔ ان میں پی آئی اے کے نیو یارک اور پیرس میں ہوٹل’ پی ایم ڈی سی’ او جی ڈی سی ایل’ پاکستان سٹیل ملز’ پی آئی اے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری ماہ میں کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی اے کے 500 ارب کے خسارے کی بات ہوئی۔ انہوں نے پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کے لئے 50 لاکھ ماہوار تنخواہ پر بار سے بندہ لائے۔ اس کی سربراہی میں پی آئی اے کا جہاز چوری ہوگیا۔ پی آئی اے ان کے دور میں 500 ارب خسارے پر پہنچی۔ پاکستان پوسٹ’ پاکستان ریلوے’ پی آئی اے سمیت تمام قومی ادارے خسارے میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں پاکستان پوسٹ کا 62 ارب خسارہ تھا۔ ہم نے اس کا ریونیو 70 ارب تک پہنچایا۔ اب اس ادارے کے ریونیو میں 110 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان سٹیل ملز کی بڑی دردناک کہانی ہے۔ 1990ء کی دہائی میں پہلی دفعہ پی ایس ایم خسارے میں گئی۔ اس وقت ان کا دور حکومت تھا۔ 2007-08ء میں مشرف دور تھا جس میں پاکستان سٹیل ملز کا منافع 9 ارب 20 کروڑ تھا۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کا دور آیا اور یہ پھر خسارے میں چلی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تمام ادارے بیچنے کا اعلان کیا۔ یہ نجکاری کرسکے نہ کوئی اصلاحات لا سکے۔ انہوں نے خود سٹیل ملز بند کی۔ میڈیا کو ساتھ لے کر جائیں اور دکھائیں کہ 2015ء میں انہوں نے کتنی بے دردی سے پاکستان سٹیل ملز بند کی۔ اگر اس ایک ادارے میں پاکستان کی صحت تعلیم پانی اور دیگر ضروریات کی رقم دی جاتی رہی تو ملک کیسے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست نظریہ اور سوچ الگ ہو سکتی ہے مگر جب اداروں کی بات آئے تو ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمارے ریلوے’ این ایچ اے سمیت دیگر اداروں میں اصلاحات کی تعریف نہیں کر سکتے تو کم از کم تنقید سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خسارے کم کرنے سے قوم پر بوجھ کم ہوگا۔ بجلی کے حوالے سے انہوں نے مہنگے ترین معاہدے کئے۔ ہم نے تحیقات کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا۔ پہلے مہینے میں انہوں نے گردشی قرضوں کی مد میں 480 ارب روپے ادا کئے۔ آڈٹ رپورٹ گواہ ہے۔ ہم اداروں کو ٹھیک کر رہے ہیں اس کا ریلیف عوام کو ملے گا۔ قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا پاکستان ہمارے حوالے کیا گیا۔ ان حالات میں ہم کورونا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ تمام ہسپتالوں میں حفاظتی لباس کٹس’ وینٹی لیٹرز فراہم کئے گئے ہیں۔ اس سے پہلے صحت کا نظام مکمل تباہ تھا۔ ہم نے ایمرجنسی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز فراہم کئے۔ 1000 بیڈز کا مزید انتظام کیا گیا۔ ہم نے مشکل وقت میں 12 ہزار فی خاندان لاکھوں لوگوں کو ادا کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بیرون ملک سے 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو واپس لا چکے ہیں۔ باہر سے مرض نہیں آرہا بلکہ وہ پاکستانی ہیں جو بیوی بچوں کو چھوڑ کر پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہم اپوزیشن کی طرف سے اس حوالے سے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ ایسے بیانات دے کر اپوزیشن سمندر پار پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے۔ اگر انہوں نے اس حوالے سے دوبارہ بات کی تو ہم سخ احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن جب بھی بات کرے اعداد و شمار مدنظر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کہتے تھے کہ شہباز شریف نیب کے سامنے پیش ہوں تو کیمروں کے سامنے تحقیقات کی جائیں۔ شہباز شریف جب پیش ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیمرے ہٹائے جائیں۔ ان کے اپنے بیانات میں تضادات ہیں۔