وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا ایوان بالا میں اظہارخیال

اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوں گی، 22 جون کو عبوری رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے،پی آئی اے کی نجکاری نہیں کری، اسے 60 کی دہائی تک منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو ایوان بالا میں سینیٹر رضا ربانی …

اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوں گی، 22 جون کو عبوری رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دیں گے،پی آئی اے کی نجکاری نہیں کری، اسے 60 کی دہائی تک منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو ایوان بالا میں سینیٹر رضا ربانی اور دیگر کے توجہ مبذول نوٹس کے جواب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے اے 320 کی فلائٹ 8303 میں 99 مسافر سوار تھے، بدقسمتی سے اس حادثے میں 97 افراد شہید ہوئے اور خوش قسمتی سے 2 افراد زندہ بچ گئے جو تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں، 95 لاشوں کی شناخت اور تدفین ہو چکی ہے، دو لاشیں ابھی تک شناخت نہیں ہوئیں، 82 متاثرہ خاندانوں کو 10 لاکھ روپے کے حساب سے معاوضہ دیا گیا ہے، باقی لوگ یا تو لینے سے انکاری ہیں یا ان کے فیملی تنازعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے چونکہ جہاز سول آبادی پر گرا جس سے 16 گھروں کو نقصان ہوا اور ان گھروں میں کام کرنے والی تین بچیاں زخمی ہوئیں جن میں سے ایک بچی کی بعد میں موت واقع ہو گئی، جاں بحق ہونے والی بچی کے ورثاءکو بھی معاوضہ دیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو معاوضہ دینے کے ساتھ ساتھ ان کا سرکاری خرچ پر علاج بھی کرایا جا رہا ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ مقامی سول آبادی نے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، حکومت متاثرہ گھروں کا سروے کرا رہی ہے، ان کی گھروں کی مرمت بھی کرائی جائے گی اور گاڑیوں کے نقصان کا معاوضہ بھی دیا جائے گا، پانچ متاثرہ خاندان ایئرپورٹ ہوٹل میں مقیم ہیں، اس کے علاوہ لاشوں کی شناخت کے لئے آنے والوں کو مفت آمد و رفت کی سہولت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی بورڈ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور مفادات کے ٹکراﺅ کی بات بھی کی گئی ہے، پاک فضائیہ پر ہمیں فخر ہے، 65، 71ءکی جنگوں اور فروری میں بھی انہوں نے دشمن کو بھرپور جواب دیا، دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ تحقیقاتی بورڈ کے ارکان ذمہ دار لوگ ہیں، پوری تحقیقاتی ٹیم سے خود بھی ملا ہوں اور انہیں کہا ہے کہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کریں، ہمارے ہاں ہر چیز سیاست کا شکار ہو چکی ہے، تاہم تحقیقات آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہوں گی، سی ای او پی آئی اے کا تعلق بھی پاک فضائیہ سے رہا ہے، تحقیقاتی ٹیم پر بھرپور اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحقیقات کو قابل اعتماد بنانے کے لئے انٹرنیشنل پائلٹ ایسوسی ایشن کو بھی خط لکھا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے، اے 320 کا سب سے بڑا فلیٹ ترکش ایئر لائنز کے پاس ہے، ہم نے ایسوسی ایشن کو سینئر ترین پائلٹ کمیٹی کے لئے نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بوجا ایئر لائن، ایئر بلیو اور پی آئی اے کے طیاروں کے حادثات ہوئے ہیں، گلگت بلتستان میں حال ہی میں ایک ہنگامی لینڈنگ ہوئی جس میں تمام مسافر محفوظ رہے، پہلے بھی حکومتیں گزری ہیں، اسمبلیاں، پارلیمنٹ اور جمہوریت بھی رہی ہے لیکن 2011ئ، 2012ءاور 2016ءمیں ہونے والے حادثات کی کبھی رپورٹ سامنے نہیں آئی لیکن اب ہم یہ رپورٹس سامنے لائیں گے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں 22 جون کو کراچی حادثہ کی عبوری رپورٹ پیش کی جائے گی، ڈیٹا اور وائس باکسز فرانس بھجوائے گئے تھے جو واپس آ چکے ہیں، اے 320 کمپنی اور انجن بنانے والی کمپنی کے لوگوں کی معاونت بھی شامل ہے، ان باکسز سے زیادہ قابل اعتماد ثبوت کوئی نہیں ہو سکتا، ذمہ داری کا تعین بھی ہو گا اور ایکشن بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے سی ای او کی تعیناتی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر بات نہیں کروں گا، 35 سال سے سیاست میں ہوں اور محنت کشوں کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائی لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سی بی اے یونینز کی بے جا سرپرستی کی جاتی رہی ہے، پائلٹس اور کیبن کریو کی ڈیوٹیاں بھی پی آئی اے کی یونین کی مرضی سے لگتی تھی، 10 سال میں 11 سی ای او یونین کے کہنے پر تبدیل ہوئے، یہاں تو پٹواری کے کہنے پر ڈی سی تبدیل ہوتے رہے ہیں، جب اداروں میں سیاست ہو گی اور میرٹ نہیں ہو گا تو پھر اداروں کا یہی حال ہو گا، 482 ارب روپے کا مقروض پی آئی اے مجھے ملا ہے، چار ارب روپے کا ماہانہ خسارہ ہے لیکن ہم نے پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا، پائلٹس اور دیگر عملے کی ڈگریاں چیک ہوئیں، 500 سے زائد ملازمین فارغ ہوئے، یہاں لائسنس بھی جعلی بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی آئی اے میں کوئی غلط ہو رہا ہے تو مجھ سے کسی نے رابطے کی کوشش نہیں کی، پالپا اور دیگر لوگ اگر کوئی شکایت کرتے تو اس کا ازالہ کرتے، انہوں نے کہا کہ 1991ءسے 174 اداروں کی 574 ارب روپے میں نجکاری کی گئی اور کہا گیا کہ قرضے اتارنے کے لئے نجکاری کی جا رہی ہے لیکن قرضے اتارنے کی بجائے بڑھا دیئے گئے اور بیمار یونٹس کی بجائے منافع بخش یونٹس بیچ دیئے گئے، ہمیں پی آئی اے کی نجکاری نہیں کرنی، اسے 60 کی دہائی تک منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگریوں اور جعلی لائسنسوں کے کیسز چل رہے ہیں، ان کی دوبارہ سکریننگ اور فزیکل چیک شروع کیا تو پھر چیخ و پکار شروع ہو گئی، جہازوں کو بھی چیک کیا جائے گا اور لاگ بک جو اس کی دستاویز ہوتی ہے اس کو بھی دیکھیں گے، پچھلی حکومتوں نے جو رپورٹس جاری کی تھیں، وہ ہم کریں گے۔ قبل ازیں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر شیری رحمن اور دیگر کی طرف سے پی آئی اے کے کراچی میں طیارہ حادثے کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس پر بات کرتے ہوئے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ کراچی میں پی آئی اے کے حادثہ میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ بڑی عجیب ہے، حادثات کی تحقیقات کر کے اصلاح نہیں کی جاتی اور رپورٹس منظر عام پر نہیں لائی جاتیں، کراچی حادثہ کے انکوائری کمیشن کی تشکیل سے مفادات کا ٹکراﺅ سامنا آ رہا ہے جسے کمیشن تشکیل دیتے وقت مدنظر نہیں رکھا گیا، انکوائری کمیشن کے ارکان میں ایک کے سوا تمام کا تعلق پاک فضائیہ سے ہے اور وہ رینک میں موجودہ سی ای او سے کم ہیں، کمیشن کے ارکان کا کمرشل فلائنگ کا تجربہ نہیں ہے، وہ ایئر بس اڑانے کا تجربہ نہیں رکھتے، سی اے اے نے انکوائری سے قبل ہی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے سی ای او کی تقرری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی حادثہ سے قبل پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ کو نافذ کیا گیا۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ بلیک باکس کا ریکارڈ سامنے آنے سے قبل حادثہ کو پائلٹ کی غلطی کیوں قرار دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انکوائری کمیشن کی تشکیل نو کی جائے۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ وہی کمپنی تحقیقات میں شامل ہے جس پر حادثہ کی ذمہ داری بھی عائد ہو سکتی ہے، انکوائری آزادانہ ہونی چاہیے، شہید پائلٹ پر ابھی سے ذمہ داری عائد کرنا مناسب نہیں۔ جاوید عباسی نے کہا کہ پی آئی اے کو ہر حکومت بیل آﺅٹ پیکج دیتی رہی ہے لیکن ادارہ ہمیشہ نقصان میں رہا ہے، ایمریٹس ایئر لائنز، پی آئی اے کے پائلٹس نے بنائی لیکن آج وہ پی آئی اے سے بہت آگے ہے، ہمیں پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔