اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کے ہدف، شعبہ جاتی ترقی کے تخمینوں اور مجوزہ سالانہ پلان کیلئے میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دےدی۔ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران ملکی معیشت کی صورتحال اور مالی سال 2020-21ءکیلئے …
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس، آئندہ مالی سال 2020-21ءکیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کے ہدف، شعبہ جاتی ترقی کے تخمینوں اور مجوزہ سالانہ پلان کیلئے میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری
اسلام آباد۔ 10 جون (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کے ہدف، شعبہ جاتی ترقی کے تخمینوں اور مجوزہ سالانہ پلان کیلئے میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دےدی۔ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں رواں مالی سال 2019-20ءکے دوران ملکی معیشت کی صورتحال اور مالی سال 2020-21ءکیلئے جائزہ زیر غور لایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کی بھرپور کوششوں کے بعد معیشت میں بڑھوتری ممکن ہوئی تاہم کورونا کی وباءکی وجہ سے یہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے معیشت کی بحالی اور بالخصوص لاک ڈاﺅن کے اثرات سے معاشرے کے غریب طبقات کو محفوظ کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔ اجلاس نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکے دوران جی ڈی پی کی گروتھ کے ہدف کے ساتھ ساتھ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کیلئے شعبہ جاتی نمو کے تخمینوں کی بھی منظوری دی۔ قومی اقتصادی کونسل نے مجوزہ سالانہ پلان برائے 2020-21ءکیلئے میکرو اکنامک فریم ورک کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں رواں مالی سال 2019-20ءکیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور آئندہ مالی سال 2020-21ءکیلئے مجوزہ ترقیاتی جائزہ بھی زیر غور لایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں وہ منصوبے شامل کئے گئے ہیں جو متعلقہ فورمز سے پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں، یہ منصوبہ بندی کے بہترین رائج طریقوں کے مطابق ہے، اس سے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں پر تیز عملدرآمد اور وسائل کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کو یقینی بنایا جا سکے گا جس سے اقتصادی نمو میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام برائے سال 2019-20ءکے جائزہ کے دوران یہ قرار دیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات سے اہم ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل سے ترقی کا عمل تیز ہوا ہے، ان اقدامات میں ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) کی منظوری کے اختیارات کو 6 کروڑ روپے سے 2 ارب روپے تک بڑھانا، سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی منظوری کے اختیارات کو 3 ارب روپے سے 10 ارب روپے تک بڑھانا اور ایکنک کے 10 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری کے اختیارات اور ترقیاتی عمل میں نجی شعبہ کی شمولیت کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹیز کا قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 جون 2020ءتک 827 ارب روپے کی لاگت کے 149 منصوبے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2020-21ءکیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں کم ترقی یافتہ علاقوں بالخصوص بلوچستان، خیبرپختونخوا میں ضم کئے گئے علاقوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک کو کورونا کی وباءکے پیش نظر حکومت ان شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے جن میں نوجوانوں کیلئے روزگار کے زیادہ مواقع ہیں۔ اس کے علاوہ زراعت اور صحت عامہ کے شعبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے اور ان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کی مانیٹرنگ کیلئے ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے، ترقیاتی عمل میں عوام کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلہ میں بروقت معلومات کی فراہمی اور منصوبوں پر عملدرآمد کی صورتحال کے بارے میں ان کی رائے حاصل کرنے کا انتظام کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے قومی اقتصادی کونسل کے سال میں دو مرتبہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2020-21ءکے قومی ترقیاتی آﺅٹ لے اور سرکاری شعبہ کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی۔ اجلاس نے سٹرٹیجک رہنمائی، نگرانی اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے بارے میں بین الصوبائی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کیلئے قومی اقتصادی کونسل کی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔









