اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسرائیل میں اتحادی جماعتوں کے درمیان مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات بشمول وادی اردن کے حصوں کو اپنے اندر ضم کرنے کافریم ورک معاہدہ طے پانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی مقبوضہ حصے …
وزیر خارجہ کا اسرائیل میں مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات کے حصوں کو اپنے اندر ضم کرنے کافریم ورک معاہدہ طے پانے پر شدید تشویش کا اظہار
اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسرائیل میں اتحادی جماعتوں کے درمیان مقبوضہ فلسطینی علاقہ جات بشمول وادی اردن کے حصوں کو اپنے اندر ضم کرنے کافریم ورک معاہدہ طے پانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی مقبوضہ حصے کو ضم کرنے کے کسی بھی یک طرفہ اقدام سے باز رہے۔ وہ بدھ کو مسئلہ فلسطین پر او۔آئی۔سی کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزراءخارجہ کی سطح پر اسلامی ممالک میں تعاون کی تنظیم (او۔آئی۔سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس میں ”ریاست فلسطین کے 1967 میں قبضہ کردہ حصوں کو اسرائیلی قابض حکومت کی جانب سے اپنے اندر ضم کرنے کی دھمکیوں“ پر غور کیاگیا۔ فلسطین کے وزیر خارجہ کی درخواست پر او۔آئی۔سی جنرل سیکریٹریٹ کے طلب کردہ اجلاس میں او۔آئی۔سی کے رکن ممالک کے وزراخارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کی۔ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یک جہتی کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے عالمی طے شدہ حدودقیود کی بنیاد پر 1967 سے قبل کی سرحدات اورالقدس الشریف دارالحکومت کی حامل خودمختار، قابل عمل اور متصل ریاست فلسطین کے قیام کے پاکستان کے مطالبہ کو دوہرایا۔ اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحاریک کی مشترک نوعیت کو اجاگر کیا جو اقوام متحدہ اوراو۔آئی۔سی کے ایجنڈے پر طویل ترین عرصہ سے زیرالتوا امور ہیں جن کی بنیاد متعلقہ خطوں کے عوام کے ناقابل تنسیخ استصواب رائے کے حق پر ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 سے بھارت کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے بعد سے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے خلاف جاری مسلسل غیرانسانی لاک ڈاون، فوجی محاصروں، کمیونیکیشن پابندیوں اور غیرمعمولی قید وبند کی صعوبتوں کو بیان کیا۔ ان ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں ہورہی ہیں اور وہاں بسنے والے انسانوں کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ صورتحال کا نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، عالمی قانون اور وہاں کے عوام کی امنگوں وخواہشات کے مطابق فلسطین اور کشمیر کے دیرینہ تنازعات کے حل میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔









