اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مالی سال 2020-21 ءکیلئے 7.5 ٹریلین مالیت کا وفاقی بجٹ کل (جمعہ کو) قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔نئے مالی سال میں محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقررکرنے کا امکان ہے ۔ زرائع نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ نیا وفاقی بجٹ ایک ایسے موقع پرپیش کیا جارہاہے جب کوروناوائرس کی وباءکی وجہ سے ملک …
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مالی سال 2020-21 ءکیلئے 7.5 ٹریلین مالیت کا وفاقی بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کرے گی،نئے مالی سال میں محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقررکرنے کا امکان ہے، ذرائع

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مالی سال 2020-21 ءکیلئے 7.5 ٹریلین مالیت کا وفاقی بجٹ کل (جمعہ کو) قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔نئے مالی سال میں محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقررکرنے کا امکان ہے ۔ زرائع نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ نیا وفاقی بجٹ ایک ایسے موقع پرپیش کیا جارہاہے جب کوروناوائرس کی وباءکی وجہ سے ملک اقتصادی مسائل کاسامنا کررہاہے۔ کورونا وائرس کی عالمگیروباءسے ملک میں شہریوں اورکاروبارکو پہنچنے والے نقصان اورمشکلات کو مدنظررکھتے ہوئے نئے وفاقی بجٹ میں ایسے اقدامات کا اعلان متوقع ہے جس سے ملک میں کاروباراورصنعتوں کاپہیہ دوبارہ رواں رکھنے میں مدد ملے گی جبکہ شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کی بھی کوشش کی جائیگی۔نئے وفاقی بجٹ میں مالیاتی انتظام وانصرام ،اقتصادی استحکام اور بڑھوتری، غیرترقیاتی اخراجات میں کمی، برآمدات میں اضافہ، ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ اورمعاشی خوشحالی کیلئے لوگوں کی سماجی اوراقتصادی زندگیوں میں بہتری نئے وفاقی میزانیہ کے بنیادی ستون ہوں گے۔نئے وفاقی بجٹ میں سماجی شعبہ کی ترقی، گورننس میں بہتری کیلئے اصلاحات اورنجی شعبہ وسرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔زرائع کے مطابق کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی منظرنامہ کو مدنظررکھتے ہوئے نئے وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس عائد نہیں کئے جائیں گے بلکہ اس کی بجائے محصولات اکھٹاکرنے اورٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے کی کوششوں میں تیزی لائی جائیگی، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس گزاروں کی سہولت کیلئے مزید اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال کیلئے محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقررکرنے کا امکان ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کیلئے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، بجٹ سازی کیلئے تمام متعلقہ وزارتوں اورڈویژنوں کے ساتھ رابطہ کاری کا عمل پہلے سے مکمل کیا گیاہے، معیشت کی بحالی اورکاروبارمیں آسانیوں کیلئے وزارت خزانہ میں تاجروں ، صنعت کاروں اورکسانوں سمیت معیشت کے تمام اہم شعبوں کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کاعمل بھی مکمل کیا گیاہے، نئے وفاقی بجٹ میں کاروبار میں آسانیوں اورسرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے متعلقہ شراکت داروں کی تجاویز اورسفارشات کو مدنظررکھا جائیگا۔ بجٹ سے ایک روزقبل جمعرات کو وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے حکومتی معاشی ٹیم کے ہمراہ قومی اقتصادی سروے 2019-20ءکا اجراءکیا۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال کے آغاز سے لیکر فروری تک معاشی اشارئے بڑھوتری کی طرف گامزن رہے تاہم کورونا وائرس کی عالمگیروباءکے نتیجہ میں پاکستان کی معیشت کو مجموعی طورپر3000 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑاہے۔وباءکی وجہ سے ملکی اقتصادی بڑھوتری کی شرح منفی 0.38 فیصد رہی۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال کے دوران زرعی گروتھ میں 2.67 فیصد کی کمی ریکارڈکی گئی، صنعتی شعبہ کی ترقی کی شرح میں منفی 2.64 فیصد اورخدمات کے شعبہ کی ترقی منفی 0.59 فیصد رہی۔







