وفاقی بجٹ 2020-21ءاورفنانس ایکٹ میں سیلزٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اورکسٹم ایکٹ میں کئی تبدیلیوں کی تجاویز

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) وفاقی بجٹ 2020-21ءاورفنانس ایکٹ میں سیلزٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اورکسٹم ایکٹ میں کئی تبدیلیوں کی تجاویز دی گئی ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کسٹم ایکٹ 1969میں برآمدی ری بیٹ کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے برآمد کنندگان کے بینک اکاونٹ میں براہ راست منتقل کرنے کا طریقہ کارخودکاربنانے کی تجویز دی گئی ہے، صنعتی شعبے کی لگائی جانے والی لاگت کو کم …

اسلام آباد ۔ 14 جون (اے پی پی) وفاقی بجٹ 2020-21ءاورفنانس ایکٹ میں سیلزٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اورکسٹم ایکٹ میں کئی تبدیلیوں کی تجاویز دی گئی ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کسٹم ایکٹ 1969میں برآمدی ری بیٹ کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے برآمد کنندگان کے بینک اکاونٹ میں براہ راست منتقل کرنے کا طریقہ کارخودکاربنانے کی تجویز دی گئی ہے، صنعتی شعبے کی لگائی جانے والی لاگت کو کم کرنے کے لئے خام مال کو بھی مکمل طور پر تمام کسٹم ڈیوٹیوں سے مستثنیٰ قرار دیئے جانے کی تجویز دی گئی ۔ ان اشیاء کی فہرست میں کیمیکلز، لیدر، ٹیکسٹائل، ربر، کھاد میں استعمال ہونے والا خام مال شامل ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق 200ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے ۔ ان اشیاءکی فہرست میں بلیجنگ، ربر، گھریلو اشیاءکا خام مال شامل ہیں۔ انجینئرنگ کے مقامی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے ہاٹ رولڈ کوائلز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو 12.5فیصد سے کم کر کے 6فیصد پر لانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس اقدام سے سٹیل پائپ، انڈر گراونڈ ٹینکاور بوائلر کی صنعت کو فروغ ملے گا۔ سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے مختلف اشیائ مثلاً کپڑے، سینٹری ویئر، الیکٹروڈز، کمبلوں، پیڈلاکس وغیرہ کو اسمگلنگ سے بچانے کے لئے ان پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ غریب عوام کی صحت سے متعلقہ اخراجات کو کم کرنے کے لئے کورونا وائرس اور کینسر کی ڈائیگناسٹک کٹس پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو ختم کرنے اور جنیاتی مسائل میں مبتلا بچوں کے لئے خصوصی فوڈ سپلیمنٹس (پرہیزی غذا) کو درآمدی مرحلے پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجاویز بھی دی گئی ہے۔ سپلیمنٹری فوڈز میں استعمال ہونے والے خام مال کو کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنی قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے ،وفاقی بجٹ میںاسمگلنگ کی سزاوں کو عقلی اور جامع بنانے کے لئے کم سے کم سزا کے قانون کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے تا کہ کسٹم حکام اپنی مرضی سے سمگلنگ میں ملوث کسی شخص کو چھوڑ نہ سکیں۔ ایڈوانس رولنگ کے نظریے کو کسٹمز قوانین میں شامل کرنے کی تجویز بھی گئی ہے۔ ٹیکس کی بنیاد میں وسعت لانے اور عوام کی سہولت کے لئے عام خریدار کے لئے بغیر شناختی کارڈ خریداری کی حد 50ہزار سے بڑھا کر 1لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ وراثتی میٹابولک سینڈ روم میں مبتلا بچوں کیلئے خصوصی غذا کو خصوصی طبی مقاصد کے لئے درآمد کرنے پر ٹیکس اورڈیوٹی سے استثنیٰ کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس مقصد کے لئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے چھٹے شیڈول میں ایک نیا سیریل صرف درآمد پر استثنیٰ کے لئے شامل کیا جائیگا۔ صحت سے متعلقہ سازوسامان کی درآمد اور بعد ازاں فراہمی پر 20 مارچ 2020ءکو جاری کئے جانے والے ایس آر او 237 میں مزید تین ماہ کے توسیع کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔ سیلزٹیکس کے نظام کے کے مو¿ثر اطلاق کیلئے گیارہویں شیڈول میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ غیر رجسٹرڈ یا نان ایکٹو ٹیکس پیئر سے ٹیکس کی وصولی یکمشت کی جا سکے۔ اس سے ملک میں ٹیکس فائل کرنے کے رجحان کو فروغ ملے گا۔ وفاقی بجٹ میں درآمدی سگریٹ، بیڑی، سگارز و چھوٹے سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیائ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے اورتمباکو کے متبادل اور ای سگریٹس کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں، فلٹر راڈ سگریٹ کی تیاری میں ایک بنیادی چیز ہے۔ فلٹر راڈ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو ایک روپے فی کلو گرام تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ کیفین پر مشتمل مشروبات کے استعمال میں کمی لانے کیلئے درآمد اور مقامی فراہمی، دونوں جگہ ایف ای ڈی (FED) کو 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔مقامی اور درآمدی گاڑیوں اور ایس یو ویز (SUVs) پر ایف ای ڈی کا سٹرکچر پہلے سے ہی موجود ہے۔ ڈبل کیبن پک اپ کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر بھی یکساں قیمت والی دوسری گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔ وفاقی بجٹ میں ماچس بنانے کی صنعت کی سفارش پر پوٹاشیم کلوریٹ پر ٹیکس کی شرح 70 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 80 روپے فی کلوگرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔