راولپنڈی 4 - جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، اسلام میں کسی نفرت اور انتشار کی کوئی گنجائش نہیں‘تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائ، مشائخ عظام سے ہونے والی آج کی مشاورت اس …
پاکستان کا آئین ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، اسلام میں کسی نفرت اور انتشار کی کوئی گنجائش نہیں‘ وفاقی وزیر ڈاکٹر پیر نور الحق قادری

مزید خبریں
راولپنڈی 4 – جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، اسلام میں کسی نفرت اور انتشار کی کوئی گنجائش نہیں‘تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائ، مشائخ عظام سے ہونے والی آج کی مشاورت اس حوالے سے مفید رہی ہے‘ مشاورت کے اس سلسلہ کو اگے بڑھاتے ہوئے قومی بیانیہ منبر و محراب، دینی مدارس اور آستانوں کے ذریعے عام کریں گے اور حکومت و ریاست پاکستان اس ضمن میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی، حکومت پہلے دن سے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں امت مسلمہ کے اتحاد اور اتفاق اور خطے میں امن و سلامتی کے لئے کوشاں ہے جو ہماری بہترین خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید گاہ شریف راولپنڈی میں پیر سید نقیب الرحمن کی زیر صدارت” اتحاد امت کانفرنس” سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ومشائخ نے جو تعمیری گفتگو کی ہے افراتفری کے اس دور میں اسی سوچ کو پروان چڑھانے اور فروعی اختلاف اور انتشار کا باعث بننے والے عوامل اور عناصر کی حوصلہ شکنی کرنے ہوئے امن، محبت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے افکار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایچ نائن سیکثر میں مندر کے لئے سابقہ حکومت کے دور میں دی گئی تھی فنڈز کی فراہمی کی منظوری تمام مسالک کی مشاورت اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں دی گئی – انہوں نے کہا کہ اسلام امن، سلامتی ، رواداری، اور ہم آہنگی کا درس دیتا ہے،اسلام میں کسی فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور بطور مسلمان یہ ہمارا قومی اور مذہبی فریضہ بنتا ہے کہ ہم مذہبی رواداری اور باہمی اخوت پر مبنی معاشرے کے تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں، اجلاس کے اختتام پر پیر سید محمد حسان حسیب الرحمان نے تمام علماءو مشائخ کی طرف سے متفقہ رائے اور اعلامیہ پیش کیا۔








