اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ٹڈل دل کے حملہ سے پاکستان کیلئے زراعت کے شعبہ میں تحقیق اور جدت کا راستہ کھلا ہے، زرعی خودکفالت کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، تحقیق اور ترقی کے اداروں کے معیار کو بہتر بنائیں گے، زرعی ترقی اورخودکفالت کیلئے ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اور …
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام کا قومی اسمبلی میں زرعی پالیسی پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ٹڈل دل کے حملہ سے پاکستان کیلئے زراعت کے شعبہ میں تحقیق اور جدت کا راستہ کھلا ہے، زرعی خودکفالت کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، تحقیق اور ترقی کے اداروں کے معیار کو بہتر بنائیں گے، زرعی ترقی اورخودکفالت کیلئے ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اور مشکل فیصلوں سے ممالک آگے بڑھتے ہیں۔ پیرکوقومی اسمبلی میں زرعی پالیسی پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت سے ہم 19.3 فیصد جی ڈی پی کماتے ہیں۔ 40 فیصد لیبر فورس کا تعلق زراعت کے پیشہ سے ہے۔ برآمدات میں 16 تا 19 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کا سب سے اہم مسئلہ فی ایکڑ کم پیداوار ہے۔ ملک میں پانچ بڑی فصلوں کی پیداوارمیں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ آم ‘ کنو‘ امرود‘ چیری‘ انار کی وہ پیداوارپیداوارحاصل نہیں ہتی جو ہونی چاہیے۔ پھلوں کی پیداوارمیں اضافہ سے ہم اس کی برآمدات کو موجودہ 700 ملین ڈالر سے بڑھا کر دو ارب ڈالر تک کرسکتے ہیں۔ ہمیں فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری کو آگ بڑھانا ہوگا۔ بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے بغیر زراعت کو ترقی نہیں دے سکتے۔ اس کے لئے دو تین چیزیں کرنا پڑیں گی۔ بیجوں کی ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہوگی۔ ماضی میں اس ٹیکنالوجی سے فی ایکڑ پیداوار کو بڑھایا گیا۔ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ پنجاب اور سندھ میں سیڈ کارپوریشن ہے۔ پنجاب پر سیڈ کارپوریشن نے ماضی میں کپاس کے 30 فیصد بیج پیدا کئے ہیں۔ آج سرکاری شعبہ پانچ فیصد کے قریب بیج فراہم کر رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کو فیلڈ میں معیاری بیجوں کی خریداری کے لئے سرکاری اور نجی شعبہ کو شامل کرنا چاہئیے۔ اس بیج کو کسانوں کو سبسڈی پر فراہم کرکے ہم کاٹن کی پیداوار کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔اس طرح کی پالیسی اگر ہم گندم کیلئے چھوٹے پیمانہ پر استعمال کریں تو فی الفور فی ہیکٹر پیداوار میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف کاشتکار بلکہ ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ رواں سال گندم کی پیداوار کم ہوئی ہے جس کی درآمد کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس ملک سے ہمیں بہترین بیج ملیں گے ہم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے زراعت کے لئے ان پٹ کی قیمتیں کم تھیں۔ پچھلے چند سالوں سے ان پٹ کی قیمتوں میں اضافہ سے کاشتکاروں کے لئے مسائل پیدا ہوئے۔ زراعت میں تحقیق کا فائدہ کسانوں اور ملک کو ہوگا۔ اس میں بھی صوبوں کا کردار زیادہ ہے۔ تحقیق اور توسیع زراعت پر توجہ دینا ہوگی اور اس کے لئے بجٹ بڑھانا ہوگا۔ پاکستان میں بین الاقوامی سطح کے دو زرعی تحقیقی اداروں کے قیام سے ہم آگے جاسکتے ہیں۔ وہاں پر پاکستان کے ماہرین کی بہتر تربیت ہوسکے گی۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ تحقیق اور ترقی کے اداروں کے معیار کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیڑے مار ادویات اب چین سے آتی ہیں۔ ہمیں ایسے انٹر پرینیور تلاش کرنا ہیں تاکہ یہ ملک میں تیار ہو سکے۔ اس کیلئے ایسی پالیسی کی کوشش ہوگی کہ جو بھی کیڑے مارادوایات امپورٹ کر رہا ہے اس سے معاہدہ کرنا چاہیے کہ تین چار سالوں میں یہ پاکستان میں بننا چاہیے۔ دیگر ممالک جاپان‘ کوریا‘ ملائیشیا نے یہ طریقہ کار اختیار کیا۔ ہم نے وہ راستے اختیار نہیں کئے جو ہمیں اختیار کرنے چاہیے تھے۔ آج ہم ٹڈی دل اور دیگر زرعی مسائل کے لئے باہر کے ممالک کی طرف دیکھتے ہیں۔ سٹیل ملز کے لئے برسوں قبل ہمیں جدید ٹیکنالوجی ملی تھی لیکن ہم اسے ترقی نہیں دے سکے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ کووڈ اور ٹڈی دل سے پاکستان کے لئے موقع ملا ہے کہ ہمیں زراعت کے ذریعے اس ملک کو ترقی دینی ہے۔ اور یہی وزیراعظم عمران خان کا وڑن ہے۔ اس کے لئے زیادہ دولت نہیں بلکہ یکسوئی سے قابل اور ذہین افراد چاہیں۔ خوراک میں خودکفالت ہماری منزل ہونی چاہیے۔ ماضی میں پاکستان کپاس برآمد اور آج درآمد کر رہا ہے ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اور مشکل فیصلوں سے ممالک آگے بڑھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں لائیو سٹاک کا شعبہ اہم ہے۔ گائے اور بھینس کی بہتر نسل، فیڈز اور ہیلتھ کور کے شعبوں میں جدت لانا ہوگی۔ منہ کھر کی بیماری کے حوالے سے دو پراجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کا ایک مسئلہ مارکیٹنگ نظام ہے۔ کاشت کاروں کے لئے 37 ارب کے پیکج کو دوبارہ ای سی سی میں لے جارہے ہیں تاکہ یہ پیسہ کاشتکاروں تک پہنچ سکے۔ کوشش ہوگی کہ سبسڈی چودہ اگست تک کاشتکاروں تک پہنچ سکے‘انہوں نے کہاکہ ٹیوب ویلز کے لئے ٹیرف کو معقول بنانا ہوگا۔اس ضمن میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب سے گفت و شنید چل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک کاشتکاروں کو پورا معاوضہ نہیں ملے گا یہ ملک ترقی نہیں کرے








