کسانوں کو مناسب اجرت نہیں دی جارہی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے زرعی نظام میں معیاری مسابقت اور جدید سہولیات کی حوصلہ افزائی کریں وفاقی وزیر سید فخر امام کا انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز میں زراعت کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے موضوع پر خطاب

اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ہمارے کسانوں کو مناسب اجرت نہیں دی جارہی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے زرعی نظام میں معیاری مسابقت اور جدید سہولیات کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز میں زراعت کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے …

اسلام آباد ۔ 14 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ہمارے کسانوں کو مناسب اجرت نہیں دی جارہی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے زرعی نظام میں معیاری مسابقت اور جدید سہولیات کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز میں زراعت کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے ذکر کیا کہ زراعت میں ہماری شرح ترقی ہمارے پڑوسی ممالک سے بہت پیچھے ہے، زرعی شعبے میں معیاری کھاد ، پانی کے انتظام، اچھے معیار کے بیج کا استعمال ہماری سب سے بڑی ضروریات ہیں۔ سید فخر امام کا مؤقف تھا کہ ہماری پولٹری انڈسٹری بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے جو ایک اچھی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑی حد تک درآمد شدہ بیجوں پر انحصار کرتے ہیں، بیج ٹیکنالوجی میں بہتری لانا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔کسی زمانے میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ملک میں بیج کی ضرورت کو 33 سے 35 فیصد پورا کرتی تھی۔سرکاری اور نجی شعبے کو اچھے معیار کے بیج کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔سید فخر امام نے کہا کہ فلوریکلچر کی بین الاقوامی سطح پر بہت بڑی منڈی ہے ، ہالینڈ نے پوری دنیا کی 45 فیصد پھولوں کی طلب کو پورا کیا ہے۔ہمیں نئی فصلوں، جن کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ مانگ ہو،کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کم قیمت والی فصلوں سے اعلی قیمت والی فصلوں کی طرف منتقلی کی بہت ضرورت ہے۔ہماری کپاس کی پیداوار میں کافی کمی آئی ہے اور ہم نے فی گٹھری کا وزن 170 کلوگرام سے گھٹا کر 150 کلوگرام کردیا ہے۔پتوں کے کارل وائرس نے ہماری کپاس کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پھلوں اور سبزیوں کی صنعت کو بڑھانے کی ضرورت ہے ، پھلوں کے لئے ہمیں پروسیسنگ انڈسٹری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین پھل ہیں لیکن پروسیسنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی برآمد زیادہ نہیں ہے۔سید فخر امام نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے پھلوں کی شیلف لائف بڑھانا ہوگی۔زیادہ تر وقت ہمیں کیڑے مار دوا درآمد کرنا پڑتی ہے کیونکہ ہم اسے خود نہیں بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اعلی ٹیکنالوجی کی طرف گامزن ہونا چاہئے اور تبدیلی کو اپنانا چاہئے۔ ہم نے زیتون کی پیداوار کو بڑھایا ہے ، ہم پوٹھوہار خطے میں زیتون پر تحقیق کر رہے ہیں جو واقعتا ایک اچھا قدم ہے۔

مزید خبریں